سیوٹا — مراکش اور ہسپانوی اینکلیو سیوٹا کے درمیان قائم بلند و بالا خاردار تاروں والی باڑ اس وقت ایک انسانی اور سیاسی آتش فشاں بنی ہوئی ہے۔ یورپ میں داخلے کے خواہشمند ہزاروں افراد کی جانب سے سرحد پار کرنے کی کوششوں نے میڈرڈ اور رباط کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی پیدا کر دی ہے۔
تازہ ترین واقعات میں سینکڑوں تارکین وطن نے چھ میٹر اونچی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ہسپانوی سول گارڈ اور مقامی سکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہسپانوی فورسز کے کریک ڈاؤن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ حکومت اسے اپنی علاقائی سالمیت کا دفاع قرار دے رہی ہے۔
سیوٹا کے مقامی رہائشیوں کے لیے یہ سرحد محض ایک سیاسی بحث نہیں، بلکہ روزمرہ کی زندگی کا ایک کٹھن امتحان بن چکی ہے۔ مقامی معیشت دباؤ کا شکار ہے، تعلیمی ادارے نئے آنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سنبھالنے سے قاصر ہیں، اور شہر میں سکیورٹی کا احساس تیزی سے دم توڑ رہا ہے۔
ترجال بارڈر کراسنگ پر تعینات ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم اپنی صلاحیت سے کہیں زیادہ دباؤ میں ہیں۔ ہم ایک یا دو دن تو صورتحال کو قابو کر سکتے ہیں، لیکن یہ مستقل محاصرے کی کیفیت ہم سے برداشت نہیں ہوگی۔”
اس بحران کی جڑیں شمالی افریقہ کی معاشی بدحالی اور ہسپانیہ اور مراکش کے مابین سفارتی ڈیڈ لاک میں پیوست ہیں۔ مراکش اکثر تارکین وطن کے مسئلے کو میڈرڈ کے ساتھ اپنے مذاکرات میں بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرتا ہے، جس سے یہ سرحد ایک ایسی بساط بن گئی ہے جہاں انسانی جانوں کا سودا کیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے "ہاٹ ریٹرنز” (بغیر کسی قانونی کارروائی کے فوری ملک بدری) کو بین الاقوامی پناہ گزین قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ہسپانوی حکومت کا موقف ہے کہ یورپی سرحدوں کی حفاظت ان کی اولین ذمہ داری ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
اعداد و شمار ایک تلخ حقیقت بیان کرتے ہیں۔ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے اکثریت پانی کی کمی یا باڑ پھلانگتے ہوئے زخمی ہو چکی ہے۔ مقامی ہسپتال اپنی گنجائش سے دوگنا مریضوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، اور طبی عملے کو بنیادی ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
بحیرہ روم کے کنارے واقع اس شہر میں رات کا سناٹا اکثر دھوکہ ثابت ہوتا ہے۔ اگلا ہجوم کب سرحد پر پہنچے گا، یہ سوال نہیں بلکہ ایک یقینی حقیقت ہے۔ مراکش کی جانب انتظار کرنے والے خاندان ہوں یا ہسپانوی سکیورٹی فورسز، موجودہ صورتحال اب ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔
جب تک برسلز اور رباط سرحد کے انتظام پر کسی پائیدار معاہدے تک نہیں پہنچتے، سیوٹا کے عوام ایک ایسی دیوار کے سائے میں جیتے رہیں گے جو دو دنیاؤں کو تو تقسیم کرتی ہے، مگر کسی مسئلے کا حل پیش نہیں کرتی۔
