ایک ہزار پچانوے دن۔ غزہ کے ان خاندانوں کے لیے یہ عرصہ محض وقت کا دورانیہ نہیں، بلکہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والا کرب تھا۔ جن خاندانوں کے پیارے تنازع کے ابتدائی دنوں میں ملبے تلے دب گئے تھے، انہیں تین سال تک ایک باوقار تدفین کا انتظار کرنا پڑا۔ اب جب امدادی ٹیموں نے منہدم عمارتوں کا ملبہ ہٹانا شروع کیا ہے، تو ان خاندانوں کے لیے پرانے زخم دوبارہ تازہ ہو گئے ہیں۔
بہت سے لوگوں کے لیے اب یہ کسی انسان کی بازیابی نہیں، بلکہ محض ایک نشانی کا حصول ہے۔
احمد، جن کا بیٹا تین سال قبل ملبے تلے دب گیا تھا، بتاتے ہیں: "مجھے اس کی شناخت تو نہیں ہو سکی، لیکن قمیض دیکھ کر پہچان لیا۔ میں اس کے باقی ماندہ حصوں کو گلے لگانا چاہتا تھا، مگر وہاں کچھ نہیں بچا تھا۔ میں نے بس اس مٹی کو چھوا جہاں سے اسے نکالا گیا تھا۔”
تدفین میں اس طویل تاخیر کی وجہ جاری محاصرہ اور تباہی کا وسیع پیمانہ ہے۔ بھاری مشینری کی عدم دستیابی اور صحت کے نظام کی تباہی کے باعث ہزاروں لاشیں برسوں تک کنکریٹ کے ڈھیر تلے دبی رہیں۔ کئی خاندانوں نے تو "غائبانہ جنازے” پڑھ لیے تھے—خالی کفنوں پر نماز ادا کی گئی—تاکہ سوگ کا عمل شروع کیا جا سکے۔
اب ان باقیات کی بازیابی نے غم کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ فرانزک ماہرین، جو انتہائی محدود وسائل میں کام کر رہے ہیں، شناخت کے عمل میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اکثر خاندان کپڑوں کے ٹکڑوں، ذاتی اشیاء یا ملبے کی جگہ کے تعین کے ذریعے اپنے پیاروں کا دعویٰ کرنے پر مجبور ہیں۔
مقامی امدادی کارکنوں کے مطابق تدفین کے مقامات پر صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے۔ نہ تابوت ہیں اور نہ ہی روایتی تین روزہ سوگ منانے کی مہلت۔ اصل فکر صفائی ستھرائی کی ہے، کیونکہ طویل عرصے تک دبے رہنے والی باقیات سے وبائی امراض کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
سول ڈیفنس یونٹ کے ایک رضاکار نے کہا: "ہم ان لوگوں کو دفنا رہے ہیں جو تین سال سے اس شہر کے ملبے کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ خاندانوں کو ایک طرح کا سکون تو ملا ہے، لیکن یہ سکون کھوکھلا ہے۔ وہ بس ایک ایسی یاد کو دفنا رہے ہیں جسے اب ایک جسمانی نشانی مل گئی ہے۔”
بین الاقوامی مبصرین بارہا اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ غزہ میں انسانی وقار کے بنیادی تقاضے پورے کرنے کے لیے انفراسٹرکچر کا فقدان ہے۔ عالمی خبروں کی توجہ اکثر جنگ بندی کے مذاکرات یا سیاسی جوڑ توڑ پر رہتی ہے، لیکن زمینی حقیقت اب بھی تنازع کے ان جسمانی نشانات سے جڑی ہوئی ہے۔
ان خاندانوں کے لیے یہ تدفین کسی کہانی کا اختتام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے سفر کا بھیانک پڑاؤ ہے جس کا کوئی واضح انجام دکھائی نہیں دیتا۔ انہیں اپنے پیاروں کی باقیات تو مل گئیں، مگر ‘کیسے’ اور ‘کیوں’ کے سوالات اب بھی اسی ملبے کی طرح دفن ہیں جس نے ان کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا۔
