لاس ویگاس: ایمازون کی خودکار گاڑیوں بنانے والی کمپنی ‘زوکس’ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے سے لاس ویگاس میں باقاعدہ کرائے پر روبوٹیکسی سروس کا آغاز کر رہی ہے۔ یہ قدم امریکی روڈ سیفٹی ایجنسی کی جانب سے بغیر انسانی کنٹرول کے چلنے والی ان روبوٹیکسیوں کی کمرشل ڈیپلائمنٹ کی اجازت دیے جانے کے چند دن بعد اٹھایا گیا ہے۔
زوکس کی برقی گاڑیوں میں اندر کی طرف آمنے سامنے نشستیں بنی ہوئی ہیں، جو اب تک لاس ویگاس، سان فرانسسکو، آسٹن اور میامی میں تجرباتی طور پر مسافروں کو مفت سفری سہولیات فراہم کر رہی تھیں۔ اس کمرشل لانچ سے امریکی خودکار رائڈ ہیلنگ مارکیٹ میں مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے، جہاں الفابیٹ کی ‘ویمو’ پہلے ہی کئی شہروں میں پیڈ سروس چلا رہی ہے جبکہ ٹیسلا نے بھی اپنی سروس کا آغاز کر دیا ہے۔
کمپنی کے بیان کے مطابق، زوکس پیر کے روز سے لاس ویگاس میں مسافروں سے کرایہ وصول کرنا شروع کرے گی، جو کہ دیگر رائڈ ہیلنگ کمپنیوں کی ‘کمفرٹ’ ٹیئر کے مساوی ہوگا۔ زوکس نے تحال یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ دیگر شہروں میں یہ پیڈ سروس کب شروع کرے گی۔
زوکس وہ پہلی خودکار رائڈ ہیلنگ کمپنی بن گئی ہے جسے نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کی طرف سے روایتی انسانی کنٹرول کے وفاقی قواعد سے استثنا ملا ہے۔ یہ منظوری ان گاڑیوں کے لیے ہے جو روایتی کاروں میں ترمیم کرنے کے بجائے شروع سے ہی روبوٹیکسی کے طور پر بنائی گئی ہیں، تاہم یہ چھوٹ اگلے دو سالوں میں ہر سال زیادہ سے زیادہ 2,500 گاڑیوں تک محدود ہوگی۔
ادارے کا کہنا ہے کہ زوکس کی گاڑیاں وفاقی موٹر وہیکل سیفٹی کے معیارات کے مطابق محفوظ ہیں، تاہم حادثات یا سڑک پر نامناسب طریقے سے رکنے جیسے معاملات کے لیے اضافی رپورٹنگ کی شرط رکھی گئی ہے۔ زوکس نے واضح کیا ہے کہ کرایے کا حساب بیس فئر، وقت اور بہترین روٹ کے فاصلے کی بنیاد پر لگایا جائے گا، اور اگر روبوٹیکسی طویل راستہ اختیار کرتی ہے تو مسافروں سے اضافی چارجز نہیں لیے جائیں گے۔
