ڈونلڈ ٹرمپ کی سکیورٹی ٹیم نے ایک انتخابی مہم کے دوران سابق صدر کو ایران سے لاحق مبینہ خطرے کے پیشِ نظر انتہائی غیر روایتی طریقہ اختیار کیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ایک پرواز کے دوران ٹرمپ کو طیارے سے دوسرے طیارے میں منتقل کرنے کے لیے ایک کیٹرنگ ٹرک کا سہارا لیا گیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹرمپ ایک ریلی میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔ سکیورٹی ایجنٹس نے معمول کے مطابق طیارے سے باہر نکلنے کے بجائے سابق صدر کو چھپانے کے لیے کیٹرنگ گاڑی کا انتخاب کیا، تاکہ وہ ٹرمک پر کسی بھی ممکنہ حملے کا نشانہ نہ بن سکیں۔
اس واقعے نے ٹرمپ کی حفاظت پر مامور سکیورٹی کے بدلتے ہوئے انداز کو نمایاں کیا ہے۔ 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد سے ایران کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا خدشہ امریکی انٹیلیجنس کے لیے ایک مسلسل دردِ سر بنا ہوا ہے۔
سکیورٹی امور کے ایک سابق ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب خطرے کا لیول ایک خاص حد تک بڑھ جائے، تو پرانے قاعدے ضابطے بدل دیے جاتے ہیں۔ "آپ کسی ہائی پروفائل شخصیت کو کھلے میدان میں خطرے کے حوالے نہیں کر سکتے۔ کیٹرنگ ٹرک کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ سکیورٹی ٹیمیں ہر ممکن حد تک غیر روایتی راستے اختیار کر رہی ہیں۔”
دوسری جانب، ایران نے سابق صدر کو نقصان پہنچانے کے الزامات کو ہمیشہ مسترد کیا ہے اور اسے سیاسی مقاصد کے لیے گھڑا گیا بیانیہ قرار دیا ہے۔ تاہم، امریکی خفیہ ایجنسیاں اس خطرے کو بدستور سنگین قرار دیتی ہیں، جس کی وجہ سے ٹرمپ کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اور وسائل میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
اس خفیہ منتقلی کے دوران سکیورٹی ٹیم نے ٹرمینل کے بجائے سروس ایریا کا رخ کیا، جہاں سے ٹرمپ کو بغیر کسی کی نظر میں آئے دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کی حفاظت کے لیے سکیورٹی ایجنسیوں کو کس قدر محتاط اور تخلیقی حکمتِ عملی اپنانی پڑ رہی ہے۔
آنے والے دنوں میں ان حفاظتی اقدامات کا دائرہ کار مزید بڑھنے کا امکان ہے، کیونکہ سکیورٹی ماہرین کے نزدیک روایتی پروٹوکول اب بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
