عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک ایسے بھنور میں پھنسی ہوئی ہیں جس کا مرکز مشرقِ وسطیٰ ہے۔ اسرائیل اور حزب اللہ یا حماس کے درمیان ہر جھڑپ کے بعد تیل کی قیمتوں میں فوری تیزی آنا اب ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ صرف سپلائی لائنوں کا معاملہ نہیں، بلکہ اس خوف کا نام ہے کہ اگر یہ تنازع پھیلا تو آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہو سکتی ہے۔
حساب کتاب سادہ مگر تلخ ہے۔ دنیا بھر میں روزانہ استعمال ہونے والے تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اگر ایران نے یہ راستہ بند کرنے کا فیصلہ کیا—یا اگر تنازع براہِ راست بڑے پیداواری ممالک تک پھیل گیا—تو عالمی معیشت کو ایسے بحران کا سامنا ہوگا جس کے لیے کوئی تیار نہیں۔ تاجر اس حقیقت سے واقف ہیں۔ جیسے ہی ڈرون حملے یا میزائل فائر ہوتے ہیں، بازار میں ایک "رسک پریمیم” یا خطرے کا اضافی بوجھ قیمتوں میں شامل ہو جاتا ہے۔
ایک انرجی تجزیہ کار نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "مارکیٹ اب اندازے لگانے سے تھک چکی ہے۔ ہم اس دور سے آگے نکل آئے ہیں جہاں معمولی جھڑپیں صرف ایک خبر بن کر رہ جاتی تھیں۔ اب ہر کشیدگی کو ایک مکمل ناکہ بندی کے پیش خیمہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔”
امریکہ اور اس کے اتحادی اس اتار چڑھاؤ کو قابو کرنے میں تگ و دو کر رہے ہیں۔ اگرچہ امریکی شیل آئل کی پیداوار نے دھچکے کو کچھ حد تک کم ضرور کیا ہے، لیکن یہ منڈی کو مشرقِ وسطیٰ کے اثرات سے مکمل طور پر الگ نہیں کر پائی۔ اوپیک پلس (OPEC+) مسلسل سپلائی پر اپنی گرفت مضبوط رکھے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے اگر کوئی بڑا ٹرمینل بند ہوتا ہے تو قیمتوں کو سنبھالنے کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔
سرمایہ کار اس وقت "افواہ پر خریدو، حقیقت پر بیچو” کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ حملوں کی خبروں پر قیمتیں بڑھتی ہیں، اور جب گرد بیٹھتی ہے تو وہ دوبارہ نیچے آ جاتی ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود، قیمتوں کی نچلی سطح اوپر کی جانب کھسک رہی ہے۔ تشدد کا ہر نیا دور منڈی کو پہلے سے زیادہ حساس بنا رہا ہے، جس سے وہ اطمینان ختم ہو رہا ہے جس نے گزشتہ دہائی کے دوران قیمتوں کو مستحکم رکھا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ تیل کی منڈی اب صرف بیرلز کی گنتی نہیں کر رہی، بلکہ یہ سفارتکاری کی حدود کو بھی پرکھ رہی ہے۔ جب تک ایران کی حمایت یافتہ کشیدگی کا خطرہ موجود ہے، توانائی کی عالمی قیمتوں پر ایک ایسا سرچارج برقرار رہے گا جس کی قیمت عدم استحکام کی صورت میں چکائی جا رہی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اگلا بڑا اچھال آنے کے لیے کسی آئل ٹینکر پر براہِ راست حملے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے لیے صرف مارکیٹ کا یہ یقین کافی ہوگا کہ اب خطرہ محض نظریاتی نہیں رہا۔ جس دن یہ یقین پختہ ہوا، موجودہ اتار چڑھاؤ کسی طوفان سے پہلے کی خاموشی معلوم ہوگا۔
