وزیراعظم شہباز شریف نے نئی دہلی کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی آبی سلامتی ایک "ریڈ لائن” ہے اور اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی بند نہ کی تو اسلام آباد براہ راست جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
یہ بیان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کا عکاس ہے۔ منگل کے روز اسلام آباد میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان یکطرفہ طور پر پانی کا بہاؤ روکنے یا اس میں تبدیلی لانے کے عمل کو اب مزید برداشت نہیں کرے گا، جس سے پنجاب اور سندھ کے زرعی مراکز متاثر ہو رہے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ "ہم نے صبر کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔” انہوں نے وزارت آبی وسائل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 72 گھنٹوں کے اندر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کرنے کے لیے ایک جامع قانونی اور سفارتی حکمت عملی تیار کرے۔
تنازع کا بنیادی مرکز دریائے کشن گنگا اور رتلے پر بھارت کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے پن بجلی کے منصوبے ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ ڈیم 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی تکنیکی شقوں کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس کی ضمانت عالمی بینک نے دی تھی۔ دوسری جانب نئی دہلی کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبے معاہدے کے تحت ‘رن آف دی ریور’ (دریا کے قدرتی بہاؤ پر مبنی) اسکیمیں ہیں جو معاہدے کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ زندگی اور موت کا ہے۔ زراعت ملکی مجموعی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد ہے اور تقریباً 40 فیصد افرادی قوت اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ فصلوں کی کٹائی اور کاشت کے سیزن میں پانی کی کسی بھی کمی کا مطلب ایک سنگین غذائی بحران ہے، جس سے نمٹنے کی معاشی گنجائش اس وقت موجود نہیں۔
اسلام آباد میں موجود آبی پالیسی کے تجزیہ کار ڈاکٹر ارشد ملک کہتے ہیں کہ "یہ صرف بجلی یا انفراسٹرکچر کا معاملہ نہیں ہے، یہ ہماری دیہی معیشت کی شہ رگ ہے۔ جب پانی رکتا ہے تو فصلیں تباہ ہوتی ہیں، اور وزیراعظم اسی زمینی حقیقت پر ردعمل دے رہے ہیں۔”
بھارت ماضی میں پاکستان کے خدشات کو "بے بنیاد” قرار دیتا رہا ہے اور اس کا الزام ہے کہ اسلام آباد پانی کے تنازعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ نئی دہلی معاہدے کے تحت قائم کردہ ثالثی کے عمل کو نظر انداز کر کے دوطرفہ مذاکرات پر زور دیتی رہی ہے، جو کہ کئی برسوں سے تعطل کا شکار ہیں۔
وزیراعظم کا تازہ ترین بیان پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ پانی کے معاملے کو "ریڈ لائن” قرار دے کر شہباز شریف نے یہ پیغام دیا ہے کہ حکومت اب صرف سفارتی احتجاج تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جوابی اقدامات کی طرف بھی جا سکتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ موقف محض سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے ہے یا حکومت واقعی کسی سخت عملی قدم کی تیاری کر رہی ہے۔ فی الحال وزارت خارجہ اس ممکنہ تناؤ کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے، اور حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ پانی کے موجودہ بہاؤ کو قومی بقا کا معاملہ سمجھتی ہے۔
