بحرالکاہل کے درجہ حرارت میں غیر متوقع اضافہ ہو چکا ہے۔ ماہرینِ موسمیات نے ایل نینوکے قبل از وقت آغاز کی تصدیق کر دی ہے، جس سے گزشتہ تین سال سے جاری ’لا نینا‘ کا ٹھنڈا اثر ختم ہو گیا ہے۔ یہ موسمیاتی تبدیلی محض ایک عارضی کیفیت نہیں، بلکہ عالمی سطح پر خوراک کی حفاظت اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے نظام کے لیے ایک بڑی تنبیہ ہے۔
جب بحرالکاہل گرم ہوتا ہے، تو جیٹ اسٹریم کا رخ بدل جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ جنوب مشرقی ایشیا میں شدید خشک سالی اور براعظم امریکہ کے کچھ حصوں میں تباہ کن بارشوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ عالمی ادارہ موسمیات کے ایک سینئر تجزیہ کار کے مطابق، "ہم ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں پیش گوئیاں کرنا مشکل ہے۔ یہ تبدیلی اتنی تیز ہے کہ ممالک کو اپنی فصلوں کے چکر کو ایڈجسٹ کرنے کا وقت نہیں مل رہا۔”
بھارت اور آسٹریلیا جیسے زرعی مراکز میں کسان سخت خدشات کا شکار ہیں۔ گندم اور چاول کی فصلیں مون سون کے مخصوص وقت پر انحصار کرتی ہیں، اور ایل نینو ان موسمی کھڑکیوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ عالمی منڈیوں میں اجناس کی قیمتیں پہلے ہی اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں، اور اب فصلوں کی ممکنہ تباہی کے خدشے کے پیش نظر قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
موسمیاتی اثرات صرف کھیتوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ پیرو سے کیلیفورنیا تک کے ساحلی علاقے شدید بارشوں کی زد میں ہیں۔ انفراسٹرکچر کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ نکاسی آب اور سیلاب سے بچاؤ کا نظام—جو پرانے موسمی حالات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا تھا—پانی کے متوقع ریلوں کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
ماضی کے چکروں کے برعکس، یہ ایل نینو سمندری سطح کے ریکارڈ توڑ درجہ حرارت کے پس منظر میں آیا ہے۔ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں اس قدرتی عمل کی شدت کو مزید بڑھا رہی ہیں، جس سے یہ ایک معمولی موسمی چکر کے بجائے ایک طاقتور تباہ کن قوت بن چکا ہے۔
اگرچہ اس ایونٹ کی حتمی شدت پر ماہرین میں اختلاف موجود ہے، لیکن اس کا راستہ واضح ہے۔ گزشتہ تین سال کا سکون ختم ہو چکا ہے۔ حکومتوں کو اب ایک ایسے چکر کا سامنا ہے جو اگلے 12 سے 18 ماہ تک عالمی موسموں کی سمت کا تعین کرے گا۔
