واگنر اسٹیڈیم: پاکستان نے ہفتے کو ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ کے 9ویں سے 16ویں پوزیشن کے میچ میں جاپان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4-3 سے شکست دے کر ایونٹ میں 16 سال بعد پہلی کامیابی حاصل کرلی۔
یہ ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستان کی 2010 کے بعد پہلی فتح ہے، جب قومی ٹیم نے اسپین کو 2-1 سے شکست دی تھی۔ اس کامیابی کے ساتھ سابق عالمی چیمپئن نے طویل عرصے سے جاری ناکامی کا سلسلہ ختم کردیا۔
پاکستان نے آٹھ سال کے وقفے کے بعد ورلڈ کپ میں واپسی کی تھی، تاہم ابتدائی مرحلے میں ٹیم کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہ رہی۔ گرین شرٹس کو انگلینڈ اور روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی، جبکہ ویلز کے خلاف 3-3 کی برابری سے صرف ایک پوائنٹ حاصل کرسکی۔
ان نتائج کے باعث پاکستان اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی نہ کرسکا اور اسے درجہ بندی کے میچز میں شرکت کرنا پڑی، جہاں اس کا مقابلہ جاپان سے ہوا۔
جاپان نے میچ کا آغاز بہتر انداز میں کیا اور پہلے کوارٹر میں دو گول کرکے پاکستان کو دباؤ میں ڈال دیا۔ ہیوتا یامادا اور کائیٹو تاناکا نے گول کرکے جاپان کو 2-0 کی برتری دلائی۔
پاکستان نے دوسرے کوارٹر میں واپسی کی اور رانا وحید اشرف نے ایک گول کرکے خسارہ 2-1 کردیا، جس کے بعد پہلے ہاف کا اختتام اسی اسکور پر ہوا۔
تیسرے کوارٹر کے آغاز کے صرف دو منٹ بعد رانا وحید اشرف نے اپنا دوسرا گول کرکے مقابلہ برابر کردیا۔ اس کے ایک منٹ بعد محمد حماد الدین نے ایک اور گول کرکے پاکستان کو 3-2 کی برتری دلادی۔
جاپان نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے دو منٹ بعد کوجی یاماساکی کے گول کی مدد سے اسکور ایک بار پھر 3-3 کردیا۔
میچ کا فیصلہ کن لمحہ 40ویں منٹ میں آیا جب حنان شاہد نے پاکستان کے لیے چوتھا گول کرکے ٹیم کو ایک بار پھر برتری دلادی۔
اختتامی منٹوں میں جاپان نے برابری کے لیے بھرپور کوشش کی، تاہم پاکستانی دفاع نے دباؤ کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور 4-3 کی برتری برقرار رکھتے ہوئے اہم کامیابی اپنے نام کرلی۔
اس فتح کے ساتھ پاکستان نے ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال سے جاری فتح کے انتظار کو ختم کردیا اور ٹورنامنٹ میں اپنی واپسی کے دوران ایک اہم کامیابی حاصل کی۔
