سپرنٹنگ کی دنیا میں وہ رکاوٹ جو برسوں سے انسانی جسم کی آخری حد سمجھی جاتی تھی، اب ایک مشین نے عبور کر لی ہے۔ اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی سے منسلک روبوٹکس لیب کے انجینئرز کے تیار کردہ ایک بائی پیڈل (دو ٹانگوں والے) ہیومنائیڈ روبوٹ نے پیر کے روز 100 میٹر کا فاصلہ محض 9.42 سیکنڈ میں طے کر کے یوسین بولٹ کے 9.58 سیکنڈ کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔
اگرچہ اس کارکردگی کو ‘ورلڈ ایتھلیٹکس’ کی باضابطہ منظوری حاصل نہیں، لیکن ٹیلی میٹری ڈیٹا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ روبوٹ کی رفتار انسانی ایتھلیٹس کی پہنچ سے باہر ہے۔ یہ مشین کسی تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوتی، اسے پٹھوں میں کھنچاؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، اور یہ آخری میٹر تک اپنی رفتار برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پروجیکٹ کے لیڈ انجینئر ڈاکٹر ایریس تھورن کا کہنا ہے کہ "ہمارا مقصد انسانی کھلاڑیوں کی جگہ لینا نہیں، بلکہ دو ٹانگوں پر چلنے کی میکانیکی حدود کو سمجھنا ہے۔ یہ مشین تھکتی نہیں اور نہ ہی اس کی کارکردگی میں کوئی اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ یہ خالص انجینئرنگ کا کمال ہے۔”
ماہرین کے مطابق، اس روبوٹ کی کامیابی کا راز اس کے جدید ترین گائرو اسکوپ اور بائیو انسپائرڈ ڈھانچے میں چھپا ہے۔ پرانی ماڈل دوڑ شروع کرتے وقت توازن برقرار رکھنے میں ناکام رہتے تھے، لیکن موجودہ ماڈل اپنے مرکزِ ثقل کو ملی سیکنڈز میں ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نے ٹریک پر قدم رکھتے ہی اپنی رفتار کو ایک خاص ترتیب سے بڑھایا اور فنش لائن تک اسے برقرار رکھا۔
دوسری جانب، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ ایک مکمل کنٹرولڈ ماحول میں کیا گیا۔ ٹریک کی سطح روبوٹ کے خصوصی جوتوں کے مطابق تیار کی گئی تھی اور ہوا کا دباؤ بالکل صفر تھا۔ انسانی ایتھلیٹس کے برعکس، اس روبوٹ کو کسی ہجوم کے شور یا نفسیاتی دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو کسی بھی اولمپک ریس کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔
انجینئرز کی ٹیم اب اگلے ماہ اسے کھلے میدان میں لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ مشین ناہموار سطحوں اور ہوا کے مخالف سمت دباؤ کو کیسے سنبھالتی ہے۔ فی الحال، یہ ریکارڈ صرف لیبارٹری کی چار دیواری تک محدود ہے، لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسانی جسم کی دوڑنے کی صلاحیت اب ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئی ہے۔
فی الحال اس روبوٹ میں وہ انسانی جبلت اور لچک موجود نہیں جو ایک ایتھلیٹ کو ٹریک پر فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم، 9.42 سیکنڈ کا یہ وقت اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل کے کھیلوں کے میدانوں میں انسان اور مشین کا مقابلہ اب محض ایک مفروضہ نہیں رہا۔
