پیرس — فرانس کی پبلک ہیلتھ ایجنسی، ’سانتے پبلک فرانس‘ نے اس موسم گرما کے دوران ڈوبنے سے ہونے والی اموات میں اضافے کا براہِ راست تعلق شدید گرمی کی لہروں سے جوڑا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی ملک بھر میں پانی میں ڈوبنے کے حادثات میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی، جس کے بعد حکام اب عوامی تحفظ کے لیے حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہیں۔
اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ حالیہ ہیٹ ویوز کے دوران ڈوبنے کے واقعات کی شرح گزشتہ برسوں کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں طور پر بلند رہی۔ ایجنسی کے مطابق، جب لوگ شدید گرمی سے بچنے کے لیے ندی نالوں، جھیلوں اور ساحلی علاقوں کا رخ کرتے ہیں، تو گرمی اور پانی میں احتیاط کی کمی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
نیشنل لائف گارڈ فیڈریشن کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ "لوگ ٹھنڈک کے لیے پانی کا رخ کر رہے ہیں، لیکن شدید گرمی میں انسانی جسم کا ردعمل بدل جاتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ 40 ڈگری درجہ حرارت میں بیٹھنے کے بعد اچانک ٹھنڈے پانی میں کودنا جسمانی جھٹکے کا باعث بنتا ہے، جس سے تیراکی کے ماہر افراد بھی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔”
مسئلہ صرف پانی کے درجہ حرارت تک محدود نہیں۔ ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے والوں کے مطابق، "ہیٹ انڈیوسڈ فٹیگ” یعنی گرمی سے ہونے والی تھکن انسان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ مسلسل گرم راتوں کے باعث نیند کی کمی لوگوں کو جسمانی طور پر کمزور کر دیتی ہے، جس سے وہ پانی میں اپنی حدود کا درست اندازہ نہیں لگا پاتے۔ اس کے علاوہ، غیر نگرانی والے مقامات پر تیراکی کرنے والوں کا ہجوم حادثات کا سبب بن رہا ہے۔
فرانس برسوں سے ڈوبنے کے واقعات کو کم کرنے کے لیے بچوں کی تیراکی کی تربیت اور پول کی سیکیورٹی پر توجہ دیتا رہا ہے، لیکن اس موسم گرما نے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے: قدرتی آبی ذخائر میں بڑوں کی حفاظت۔ متاثرہ علاقوں کے میئرز اب عوامی تنقید کے باوجود بعض ندیوں میں تیراکی پر عارضی پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں۔
حکومت پر اب اپنی مہمات کو تبدیل کرنے کا دباؤ ہے۔ حکام ایسی ہدایات تیار کر رہے ہیں جو خاص طور پر قدرتی پانی کے ذخائر میں گرمی سے بچنے کے لیے جانے والوں کو خبردار کر سکیں۔
جن خاندانوں نے اس موسم گرما میں اپنے پیاروں کو کھویا، ان کے لیے یہ وارننگ بہت دیر سے آئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت کی نئی حکمت عملی آئندہ برسوں میں شدید گرمی کے دوران ان ہلاکتوں کو روک پائے گی یا نہیں۔
