خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے واضح کیا ہے کہ صوبائی حکومت کا لانگ مارچ 27 ستمبر کو ہی ہوگا۔ انہوں نے تاریخ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر سیاسی دباؤ کے باوجود مارچ کے شیڈول میں کوئی ردوبدل نہیں کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبائی قیادت اور وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔ پشاور میں پارٹی کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے گنڈاپور نے اشارہ دیا کہ یہ مظاہرہ ان کی تحریک کا لازمی حصہ ہے اور اس سے پیچھے ہٹنے کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے مارچ ملتوی کرنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا۔
صوبائی انتظامیہ اب مارچ کے لیے حتمی انتظامات کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ سیکیورٹی حکام وفاقی دارالحکومت کے داخلی راستوں پر ممکنہ تصادم کے خدشے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ کا اپنے فیصلے پر ڈٹے رہنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پی ٹی آئی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ایک بار پھر سخت محاذ آرائی متوقع ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات اور سیکیورٹی چیلنجز کے پیشِ نظر مارچ کا فیصلہ کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔ ان کے مطابق، ایسے وقت میں جب سیکیورٹی کے معاملات پہلے ہی نازک ہیں، مارچ کا انعقاد عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم علی امین گنڈاپور کا اصرار ہے کہ یہ ان کا آئینی حق ہے اور وہ اپنے مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال ریلی کے لیے اجازت نامہ جاری نہیں کیا گیا، اور حکومتی وزراء خبردار کر چکے ہیں کہ اگر مارچ نے امن و امان کی صورتحال خراب کی تو قانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی۔ گنڈاپور نے ان دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کارکنوں کو تیاری کا حکم دے دیا ہے۔
اب نظریں 27 ستمبر کی تاریخ پر مرکوز ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا صوبائی حکومت اپنے پلان پر عملدرآمد کر پاتی ہے یا وفاقی حکومت سڑکوں کی بندش کے ذریعے اس مارچ کو روکنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ سیاسی درجہ حرارت اپنے نقطہ عروج پر ہے اور آنے والے چند دن ملکی سیاست کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
