ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرے گی، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم عمر کی پابندی پر عمل درآمد میں ناکام رہے تو ان پر عالمی آمدنی کے 10 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔
بل میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مناسب اقدامات کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔ ان اقدامات میں موجودہ اکاؤنٹ کی معلومات، چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شناختی دستاویزات کا استعمال شامل ہوسکتا ہے۔
وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے بچوں کی ایک پوری نسل کو درپیش نقصانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
ان کے مطابق سوشل میڈیا بچوں کو نقصان دہ مواد، نشہ آور نوعیت کی ٹیکنالوجی اور ایسے دباؤ سے دوچار کررہا ہے جن سے نمٹنے کے لیے وہ ابھی مکمل طور پر تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے اثرات خاندانی زندگی، ذہنی صحت، نیند اور تعلیم تک پہنچ رہے ہیں۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ مجوزہ بل پارلیمنٹ سے منظور ہوسکے گا یا نہیں، کیونکہ لکسن کی اتحادی حکومت میں شامل نیوزی لینڈ فرسٹ پارٹی نے اس کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نیوزی لینڈ فرسٹ کے سربراہ اور وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے کہا کہ ان کی جماعت کو مجوزہ قانون اور اس سمت پر شدید تحفظات ہیں جس کی طرف اس نوعیت کی قانون سازی ملک کو لے جاسکتی ہے۔
پیٹرز نے آسٹریلیا کی جانب سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ناکام قرار دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھنا بنیادی طور پر والدین کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔
آسٹریلیا نے دسمبر میں دنیا میں پہلی بار 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر قومی سطح کی پابندی عائد کی تھی، جس کے دائرے میں ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور فیس بک سمیت متعدد پلیٹ فارم شامل ہیں۔
وزیراعظم لکسن نے اعتراف کیا کہ مجوزہ پابندی پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا اور بعض بچے قوانین سے بچنے کے طریقے تلاش کرسکتے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ معاملے کی اہمیت کے پیش نظر کوشش کرنا ضروری ہے، چاہے ہر بچے کو مکمل طور پر سوشل میڈیا سے دور رکھنا ممکن نہ بھی ہو۔
