ایچ ایم ڈی گلوبل نے اپنے نئے اسمارٹ فون ’نوکیا 300 چارج‘ کو متعارف کروا دیا ہے۔ اس فون کا مرکزی ہدف ان صارفین کو متوجہ کرنا ہے جو روزانہ چارجنگ کے جھنجھٹ سے تنگ آ چکے ہیں، کیونکہ اس ڈیوائس میں 6,000 ایم اے ایچ کی بھاری بیٹری نصب کی گئی ہے۔
فون کی سب سے بڑی طاقت اس کی بیٹری لائف ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ عام استعمال کی صورت میں یہ فون ایک بار مکمل چارج ہونے پر تین دن تک چل سکتا ہے۔ تیز رفتار چارجنگ کے لیے اس میں 45 واٹ کا فاسٹ چارجر دیا گیا ہے، تاکہ اتنی بڑی بیٹری کو کم وقت میں دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جا سکے۔
اس ڈیوائس میں ’ریورس چارجنگ‘ کی سہولت بھی موجود ہے، جس کا مطلب ہے کہ آپ اسے ایک پاور بینک کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ سفر کے دوران یا کسی ایسی جگہ جہاں بجلی میسر نہ ہو، یہ فیچر وائرلیس ایئربڈز یا دیگر چھوٹی ڈیوائسز کو چارج کرنے کے لیے انتہائی کارآمد ثابت ہوگا۔
تکنیکی پہلوؤں پر نظر ڈالیں تو نوکیا 300 چارج میں 6.7 انچ کی ایف ایچ ڈی پلسڈسپلے اسکرین دی گئی ہے، جس کا ریفریش ریٹ 90 ہرٹز ہے۔ ایچ ایم ڈی نے اس میں ایسے پروسیسر کا انتخاب کیا ہے جو ہائی اینڈ گیمنگ کے بجائے بیٹری کی بچت کو ترجیح دیتا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق، ایچ ایم ڈی گلوبل کی حکمت عملی واضح ہے: وہ ان صارفین کو ہدف بنا رہے ہیں جن کے لیے فون کی ظاہری چمک دمک سے زیادہ اس کی پائیداری اور بیٹری کا دورانیہ اہم ہے۔ مارکیٹ میں موجود دیگر برانڈز پتلے فونز بنانے کی دوڑ میں بیٹری کی صلاحیت کو محدود کر دیتے ہیں، جبکہ نوکیا نے یہاں "کمپیکٹ ڈیزائن” کے بجائے "بڑی بیٹری” کو ترجیح دی ہے۔
فون کی قیمت 299 ڈالر سے شروع ہوگی، جس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ کمپنی اسے مڈ رینج مارکیٹ میں سام سنگ اور ژیومی جیسے بڑے ناموں کے مقابل کھڑا کر رہی ہے۔ اگلے ماہ سے عالمی منڈیوں میں دستیابی کے بعد یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا صارفین پتلے اور نازک فونز کے بجائے بیٹری کی طویل زندگی والے اس فون کو ترجیح دیتے ہیں یا نہیں۔
