نیپال میں حالیہ سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 240 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ انفراسٹرکچر کی تباہی اور شاہراہوں کے کٹ جانے کے باعث ہزاروں لوگ بجلی اور مواصلات سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس قدر بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود حکومتی ریسکیو آپریشن کی سست روی نے متاثرین اور ماہرینِ امداد کو سخت مایوس کیا ہے۔
امدادی کارروائیوں میں تاخیر کی بنیادی وجہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ تباہی کے ابتدائی 48 گھنٹے، جو جانیں بچانے کے لیے سب سے اہم تھے، انتظامی تعطل کی نذر ہو گئے۔ کٹھمنڈو وادی میں غیر معمولی سیلاب کے باوجود حکومت نے بروقت فوجی اثاثوں کو متحرک نہیں کیا، جس کے نتیجے میں دور دراز علاقوں کے باسی اپنے پیاروں کو ملبے سے نکالنے کے لیے تنہا جدوجہد کرتے رہے۔
اس صورتحال کا تلخ پہلو یہ ہے کہ نیپال کا ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا نظام سیاسی چپقلش کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی قیادت میں حکومتی اتحاد داخلی اقتدار کی کشمکش میں مصروف رہا، جس کے باعث ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کو نہ تو مطلوبہ فنڈز ملے اور نہ ہی ضروری اختیارات۔ کٹھمنڈو کے ایک مقامی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "ہم نے انتباہ تو دیکھے، لیکن تیاری کہیں نظر نہیں آئی۔ کاغذوں پر بنا نظام پانی کے بہاؤ کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوا۔”
سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع کاورے پالان چوک اور سندھولی میں زندہ بچ جانے والوں کا کہنا ہے کہ خوراک، صاف پانی اور طبی امداد پہنچنے میں کئی دن لگ گئے۔ امداد صرف ان علاقوں تک محدود رہی جہاں سڑکیں کھلی تھیں، جبکہ پہاڑی دیہات مکمل طور پر کٹ کر رہ گئے۔ عوامی غصے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت نے بنیادی سپلائی لائنز کو بحال کرنے کے بجائے کٹھمنڈو-تیرائی فاسٹ ٹریک جیسے بڑے منصوبوں کو ترجیح دی۔
انتظامی ناکامی کا ایک اور پہلو مواصلاتی فقدان ہے۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی تو کر دی تھی، لیکن اس انتباہ کو مقامی سطح پر انخلاء کے احکامات میں بدلنے کا کوئی مؤثر طریقہ کار موجود نہیں تھا۔ جب تک کابینہ کے ہنگامی اجلاس بلائے گئے، تب تک تباہی اپنا کام کر چکی تھی۔
بین الاقوامی امدادی ادارے اب خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ٹوٹے ہوئے پل اور تباہ حال سڑکیں ان کے لیے بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ نیپال کے عوام اب اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ یہ آفت صرف بارش کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس سیاسی ڈھانچے کا نتیجہ ہے جو کسی بھی بڑے بحران کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔ جب اگلی موسمیاتی آفت آئے گی—اور وہ آئے گی—تو ریاست کا نظام انہی ٹوٹے ہوئے راستوں کی طرح بکھرا ہوا ہوگا۔
