کراچی — شہر کے مصروف تجارتی علاقے میں منگل کے روز موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے ایک گولڈ مرچنٹ کو یرغمال بنا کر 10 تولہ سونا لوٹ لیا۔ دن دہاڑے ہونے والی اس واردات نے مقامی تاجر برادری میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
متاثرہ تاجر اپنی گاڑی میں مرکزی مارکیٹ کی جانب گامزن تھا کہ دو مسلح افراد نے اسے روکا۔ ملزمان نے پستول کے زور پر اسے گاڑی سے اترنے پر مجبور کیا اور چند سیکنڈز کے اندر لاکھوں روپے مالیت کا سونا چھین کر ٹریفک کے ہجوم میں غائب ہو گئے۔
یہ واقعہ کراچی میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائم کی لہر کا تسلسل ہے، جہاں جیولرز اور سونا لے جانے والے تاجر منظم گروہوں کے نشانے پر ہیں۔
واقعے کے فوری بعد وہاں پہنچنے والے ایک مقامی تاجر نے بتایا کہ "انہیں معلوم تھا کہ کیا لوٹنا ہے۔ یہ کوئی عام چھینا جھپٹی نہیں تھی؛ وہ پہلے سے تاک میں بیٹھے تھے اور مزاحمت کی صورت میں گولی چلانے کے لیے تیار تھے۔”
پولیس نے اطلاع ملنے کے 20 منٹ بعد جائے وقوعہ پر پہنچ کر ابتدائی کارروائی شروع کی۔ تفتیشی ٹیمیں قریبی دکانوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر رہی ہیں، تاہم ملزمان کی موٹر سائیکل پر نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی شناخت ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
جیولری سیکٹر سے وابستہ افراد کے لیے یہ صرف مالی نقصان نہیں، بلکہ ایک مستقل سیکیورٹی بحران ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے علاقوں میں پولیس گشت کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
ایک تاجر نے احتجاجاً اپنی دکان جلدی بند کرتے ہوئے کہا، "ہم نے بارہا سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن خالی وعدے ڈاکوؤں کے پستول نہیں روک سکتے۔”
تفتیش ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور پولیس تاحال کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کراچی کے تاجر اب اس تلخ حقیقت کے ساتھ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں کہ ان کا روزگار مسلح گروہوں کی مرضی پر منحصر ہے۔
