اسلام آباد — پاکستانی حکومت نے جمعرات کو ایک سخت بیان میں واضح کیا ہے کہ سعودی پائپ لائن کوریڈور کے قریب خراب ہونے والے آئل ٹینکر کو نشانہ بنانا ‘اعلانِ جنگ’ کے مترادف ہوگا۔
خام تیل سے لدا یہ جہاز گزشتہ 48 گھنٹوں سے تکنیکی خرابی کے باعث ایک انتہائی حساس سمندری علاقے میں پھنسا ہوا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر، اسلام آباد نے اس ٹینکر کی حفاظت کو اپنی قومی ترجیح قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کی ملکیت یا پرچم سے قطع نظر، اس پر کسی بھی قسم کا حملہ ناقابلِ قبول ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم کسی تصادم کے خواہاں نہیں، لیکن اپنی توانائی کی سلامتی پر آنچ بھی نہیں آنے دیں گے۔ ٹینکر پر کوئی بھی جارحیت براہِ راست اور منہ توڑ جواب کی دعوت ہوگی۔ یہ ایک کھلی جارحیت اور اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا۔”
اس ٹینکر کا سعودی پائپ لائن کے قریب موجود ہونا جغرافیائی و سیاسی خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس جہاز کی موجودگی اسے علاقائی طاقتوں کے درمیان ایک ممکنہ ‘فلیش پوائنٹ’ بنا سکتی ہے۔ اگر خدانخواستہ کوئی حملہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان کے پہلے سے دباؤ کا شکار توانائی کے شعبے پر پڑیں گے، جس کا انحصار بڑی حد تک انہی سمندری راستوں سے آنے والی ایندھن کی ترسیل پر ہے۔
اطلاعات کے مطابق، پاک بحریہ نے صورتحال کی نگرانی کے لیے اپنے اثاثے اس علاقے کے قریب منتقل کر دیے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے باضابطہ طور پر کسی مخصوص تعیناتی کی تصدیق نہیں کی، تاہم ان کے لہجے میں آنے والی سختی روایتی سفارتی احتیاط سے ہٹ کر ایک واضح پیغام ہے۔
علاقائی مبصرین کے مطابق، یہ وقت انتہائی نازک ہے۔ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، اسلام آباد نے یہ باور کروا دیا ہے کہ وہ اب اپنی سپلائی چین کو لاحق خطرات کو محض تجارتی معاملہ نہیں سمجھے گا۔
فی الحال، ٹینکر لنگر انداز ہے اور تکنیکی ٹیموں کا انتظار کر رہا ہے۔ عملہ محفوظ ہے اور کارگو بھی تاحال مامون ہے۔ لیکن اسلام آباد کا پیغام دو ٹوک ہے: اس ٹینکر پر حملے کی قیمت کسی بھی جارح قوت کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
