واشنگٹن — امریکی وزیر خزانہ جینیٹ ییلن نے تہران کے خلاف جاری اقتصادی دباؤ کو تاریخ کی سب سے بڑی مالی جارحیت قرار دیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن ایران کو عالمی منڈیوں سے الگ تھلگ کرنے اور اس کے تیل کی برآمدات کو مکمل طور پر روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر چکا ہے۔
جینیٹ ییلن نے قومی سلامتی کے امور پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ اب روایتی سفارت کاری کے بجائے اپنی ریگولیٹری طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایران کو بین الاقوامی بینکنگ نظام سے مکمل طور پر کاٹ دینا ہے۔
اس ‘مالی جارحیت’ کا محور ثانوی پابندیاں ہیں۔ یہ پابندیاں صرف امریکی کمپنیوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ دنیا بھر کے ان بینکوں اور اداروں کو نشانکاری کرتی ہیں جو ایران کے ساتھ لین دین کرتے ہیں۔ اب عالمی اداروں کے سامنے دو ٹوک انتخاب ہے: یا تو ایرانی مارکیٹ سے ناطہ توڑ لیں یا امریکی ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے باہر ہو جائیں۔
عام ایرانی شہری اس پالیسی کی قیمت اپنی قوتِ خرید میں کمی کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی گراوٹ اور درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اس معاشی دباؤ کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے ضروری ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی تہران کو ماسکو اور بیجنگ کے مزید قریب کر رہی ہے، جس سے ایک ایسا بلاک بن رہا ہے جو مغربی مالیاتی اثر و رسوخ سے بے نیاز ہوتا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کی یہ حکمت عملی ‘ڈالر کی بالادستی’ پر کھڑی ہے۔ عالمی تجارت میں امریکی کرنسی کے مرکزی کردار کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے، واشنگٹن ایران کے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو نچوڑ رہا ہے۔
اس شدید دباؤ کے باوجود، ایران نے ‘گھوسٹ فلیٹ’ (خفیہ بحری جہازوں) اور شیڈو بینکنگ کے ذریعے مغربی نگرانی سے بچنے کے طریقے ڈھونڈ لیے ہیں۔ ایرانی تیل ایشیائی منڈیوں تک پہنچ رہا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی یہ ‘سب سے بڑی مالی جارحیت’ تہران کی پالیسیوں میں تبدیلی لانے میں کامیاب ہو سکے گی یا ایران ایک متوازی معاشی نظام کے ذریعے عالمی مالیاتی آرڈر کو نظر انداز کرنے میں کامیاب رہے گا۔
فی الحال امریکی محکمہ خزانہ اس شرط پر قائم ہے کہ پابندیوں کا یہ بوجھ بالآخر ایرانی معیشت کی کمر توڑ دے گا۔ تاہم، زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ تہران اپنے معاشی بقا کے لیے نئے راستے تلاش کرنے پر مصر ہے۔
