پاکستان نے بنگلہ دیش کو قانونی اصلاحات اور عدالتی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے تعاون کی باضابطہ پیشکش کی ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کی جانب سے اپنے عدالتی نظام میں موجود سستی اور مقدمات کے انبار کو ختم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اسلام آباد کی جانب سے بھیجی گئی اس پیشکش کا مرکزی نقطہ عدالتی کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کا انضمام ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں ای-کورٹس اور کیس مینجمنٹ کے خودکار نظام کے ذریعے عدالتی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، اور اب اسی تجربے کو ڈھاکہ کے ساتھ شیئر کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔
بنگلہ دیش میں اس وقت عبوری حکومت عدالتی آزادی اور انتظامی شفافیت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ وہاں ہزاروں زیر التوا مقدمات عدالتی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی یہ پیشکش تکنیکی مہارتوں کے تبادلے اور عدالتی افسران کی تربیت پر مبنی ہے تاکہ مقدمات کے فیصلوں میں تیزی لائی جا سکے۔
ایک حکومتی ذرائع کے مطابق، "ڈیجیٹل جسٹس کا مطلب صرف فائلوں کو کمپیوٹر پر منتقل کرنا نہیں، بلکہ نظام میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔”
چونکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کا قانونی ڈھانچہ برصغیر کے پرانے قوانین پر استوار ہے، اس لیے دونوں ممالک کے لیے ڈیجیٹل ریکارڈ کیپنگ کے نظام کو اپنانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ دونوں ملکوں کا عدالتی طریقہ کار ایک جیسا ہے، جس کی وجہ سے ٹیکنالوجی کا تبادلہ بیرونی ماڈلز کی نسبت زیادہ ہموار رہ سکتا ہے۔
تجزیہ کار اس پیشکش کو صرف قانونی اصلاحات تک محدود نہیں دیکھ رہے۔ ان کے نزدیک یہ علاقائی سفارت کاری کا ایک ایسا راستہ ہے جس میں سیاسی تناؤ کے بجائے تکنیکی اور انتظامی تعاون پر توجہ دی گئی ہے۔ یہ غیر متنازعہ شعبوں میں تعلقات کی بحالی کا ایک عملی طریقہ ہو سکتا ہے۔
تاہم، اس راہ میں داخلی مشکلات بھی ہیں۔ دونوں ممالک کی بار ایسوسی ایشنز اکثر روایتی دفتری طریقہ کار کو ترجیح دیتی ہیں اور ڈیجیٹل تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کرتی ہیں۔ کسی بھی اصلاحات کو کامیاب بنانے کے لیے وکلاء برادری کا اعتماد حاصل کرنا حکومتوں کے لیے سب سے بڑا امتحان ہوگا۔
ڈھاکہ کا اس پیشکش پر کیا ردعمل ہوگا، یہ ابھی واضح نہیں۔ لیکن اگر بنگلہ دیش اسے قبول کرتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں ایک نئے، عملی اور غیر سیاسی باب کا آغاز ہو سکتا ہے، جس کا مقصد عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا ہے۔
