کھٹمنڈو — نیپال کے دور افتادہ ضلع بائتادی میں تین سالہ بچی کی لاش کی برآمدگی کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ دو روز قبل لاپتہ ہونے والی بچی کی لاش قریبی جنگل سے ملی، جس پر تشدد اور جنسی زیادتی کے واضح نشانات موجود تھے۔
پولیس نے بدھ کی رات اس گھنونی واردات کے شبہ میں ایک 16 سالہ لڑکے کو حراست میں لیا ہے۔ اس گرفتاری کے باوجود سڑکوں پر مظاہرین کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ کھٹمنڈو اور دیگر شہروں میں لوگ جمع ہو کر مطالبہ کر رہے ہیں کہ بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کو سزائے موت دی جائے، جو کہ نیپالی قانون میں فی الحال شامل نہیں ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر حکومتی ناکامی اور بچوں کے تحفظ کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام مفلوج ہو چکا ہے، جہاں مقدمات برسوں تک التوا کا شکار رہتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو دھمکیاں دے کر خاموش کرایا جاتا ہے۔
حقوقِ انسانی کی کارکن سنیتا مہارجن نے جمعرات کو وزیر اعظم ہاؤس کے باہر احتجاج کے دوران کہا، "ہم صرف ایک بچی کا سوگ نہیں منا رہے، ہم اس نظام کا ماتم کر رہے ہیں جس نے مجرموں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔”
نیپال پولیس کے اعداد و شمار ایک بھیانک حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، لیکن سزایابی کی شرح انتہائی کم ہے۔ دیہی علاقوں میں سماجی دباؤ کے باعث اکثر مقدمات عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی دبا دیے جاتے ہیں، جس سے مجرموں کے حوصلے مزید بلند ہوتے ہیں۔
وزارت داخلہ نے ایک مختصر بیان میں "فوری اور شفاف” تحقیقات کا یقین دلایا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کو فاسٹ ٹریک عدالت میں چلایا جائے گا تاکہ ملزم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
لیکن کھٹمنڈو کی بارش میں بھیگتے مظاہرین کے لیے یہ حکومتی وعدے صرف ایک پرانا اسکرپٹ ہیں۔ وہ مزید تحقیقات نہیں، بلکہ اس فرسودہ ثقافت میں تبدیلی چاہتے ہیں جس میں کمزوروں کی حفاظت کو ہمیشہ ثانوی حیثیت دی گئی۔
بائتادی کے اس گاؤں میں جہاں بچی کی آخری رسومات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، وہیں پورے نیپال کا مطالبہ اب ایک ہی ہے: یا تو نظام کو درست کیا جائے، یا یہ احتجاج تب تک نہیں تھمے گا جب تک مجرموں کو عبرتناک سزا نہیں ملتی۔
