حنا جاوید کی پراسرار موت کے معاملے میں تفتیش ایک اہم موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ فرانزک ماہرین نے ڈی این اے ٹیسٹ مکمل کر کے رپورٹ تفتیشی ٹیم کے حوالے کر دی ہے، جسے استغاثہ اپنے کیس کی بنیاد بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ آج صبح پولیس کو موصول ہوئی۔ اگرچہ تفتیشی حکام نے رپورٹ کے مندرجات کو خفیہ رکھا ہے، تاہم ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ نتائج جائے وقوعہ سے اکٹھے کیے گئے شواہد سے مطابقت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب، کیس میں اہم سمجھے جانے والے گھریلو ملازم نے باضابطہ طور پر اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے۔ کئی گھنٹوں پر محیط اس تفتیش میں پولیس نے ملازم سے واقعے کے وقت کی ترتیب کے بارے میں سخت سوالات کیے۔ ملازم نے اپنے سابقہ موقف کو دہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جس وقت واقعہ پیش آیا، وہ کمرے میں موجود نہیں تھا۔
تفتیشی ٹیم اب اس بیان کا موازنہ گھر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور مقتولہ کے موبائل فون سے حاصل کردہ ڈیجیٹل ڈیٹا سے کر رہی ہے۔
اس کیس نے عوامی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے، اور مقتولہ کے لواحقین شفاف اور فوری انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب اصل چیلنج فرانزک شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات کے تضادات کو ختم کرنا ہے۔
"ہم ایک پیچیدہ پہیلی کے ٹکڑوں کو جوڑ رہے ہیں،” تفتیش کار نے کہا۔ "ڈی این اے رپورٹ ہمیں یہ تو بتا رہی ہے کہ کیا ہوا، لیکن گواہوں کے بیانات اب بھی اصل کہانی پر پردہ ڈال رہے ہیں۔”
پولیس اگلے 48 گھنٹوں کے اندر رپورٹ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ قانونی کارروائی کے اگلے مرحلے کا تعین کیا جا سکے۔ اس وقت تک مقتولہ کا گھر سیل ہے اور تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
