اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بدھ کے روز لگنے والی آگ نے انتظامیہ کی کارکردگی اور حفاظتی انتظامات کا پول کھول دیا ہے۔ ہسپتال کے ایک حصے سے اٹھنے والے دھوئیں کے بادلوں نے نہ صرف عملے کو خوفزدہ کیا بلکہ مریضوں کی زندگیوں کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیا۔
حیران کن بات یہ ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ محض چند ہفتے قبل بھی اسی بلاک میں آگ لگی تھی، لیکن اس وقت کی انتظامیہ نے اسے ایک معمولی حادثہ قرار دے کر فائل بند کر دی تھی۔ اس بار بھی آگ سٹوریج ایریا سے شروع ہوئی اور وینٹیلیشن سسٹم کے ذریعے تیزی سے پھیل گئی۔ مریضوں کو ایمرجنسی وارڈز سے نکال کر کھلی جگہوں پر منتقل کرنے کے مناظر نے ہسپتال کے تباہ حال انفراسٹرکچر کی قلعی کھول دی ہے۔
ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بار آگ لگنے کی وجہ پرانی اور بوسیدہ وائرنگ میں شارٹ سرکٹ ہے۔ ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کا کہنا ہے کہ پہلی بار آگ لگنے کے بعد صرف کاغذوں پر مرمت کی گئی، جبکہ عملی طور پر کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ "ہمیں بتایا گیا تھا کہ وائرنگ تبدیل کی جائے گی، لیکن صرف وقتی پٹی کر کے کام چلایا گیا،” ایک سینئر نرس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔
ہسپتال میں موجود فائر الارم اور سموک ڈیٹیکٹرز یا تو غیر فعال ہیں یا پھر ان کی تنصیب ہی غلط جگہ پر ہے۔ ہنگامی صورتحال میں عملے کو دستی طور پر وارننگ دینے پر انحصار کرنا پڑا، جس سے قیمتی وقت ضائع ہوا۔ وفاقی وزارت صحت نے واقعے کی انکوائری کا حکم تو دے دیا ہے، مگر ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ انکوائریوں سے جانیں نہیں بچتیں۔
پمز کی یہ عمارت روزانہ ہزاروں مریضوں کا بوجھ اٹھاتی ہے، لیکن بنیادی حفاظتی سہولیات کا فقدان اسے ایک بڑے سانحے کے دہانے پر کھڑا کر دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انتظامیہ اب بھی کسی بڑے جانی نقصان کا انتظار کر رہی ہے یا اس بار ذمہ داروں کے خلاف کوئی سخت کارروائی عمل میں آئے گی؟
فی الحال ہسپتال کا متاثرہ حصہ سیل کر دیا گیا ہے، لیکن عملے اور مریضوں میں خوف کی فضا برقرار ہے۔ جب تک ہسپتال کے برقی نظام اور فائر سیفٹی پروٹوکولز کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جاتا، تب تک پمز میں ہر چھوٹا سا چنگاری ایک بڑے خدشے کے طور پر موجود رہے گی۔
