انگلینڈ کی اننگز کا آغاز لڑکھڑاہٹ کا شکار رہا مگر آخری وکٹ کی مزاحمتی شراکت داری نے میزبان ٹیم کو 290 رنز تک پہنچا کر میچ میں واپسی کی راہ ہموار کر دی۔
صبح کے سیشن میں انگلش بلے باز حریف ٹیم کے ڈسپلنڈ بولنگ اٹیک کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔ وکٹ پر موجود نمی اور گیند کی غیر متوقع موومنٹ نے مڈل آرڈر کے لیے مشکلات پیدا کیں، جس کے نتیجے میں ٹیم 180 رنز پر 7 وکٹیں گنوا کر شدید دباؤ میں آ گئی تھی۔ کپتان بین اسٹوکس 42 رنز بنا کر پویلین لوٹے تو انگلینڈ کی اننگز جلد ختم ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔
پھر آخری جوڑی نے کھیل کا نقشہ بدل دیا۔ دونوں بلے بازوں نے نہ صرف ایک گھنٹے تک حریف بولرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ گیند کو باؤنڈری کے پار پہنچا کر اسکور بورڈ کو بھی متحرک رکھا۔ اس جوڑی نے 60 رنز کا اضافہ کیا جو اس اننگز کی سب سے بڑی شراکت ثابت ہوئی۔
اس مزاحمت نے نہ صرف حریف کپتان کو پریشان کیا بلکہ فیلڈنگ ٹیم کے حوصلے بھی پست کر دیے۔ 290 رنز کا مجموعہ اگرچہ بہت بڑا نہیں، مگر یہ انگلش بولرز کو صبح کے سیشن میں نئی گیند کے ساتھ حریف بلے بازوں پر دباؤ ڈالنے کا موقع فراہم کرے گا۔
اب گیند انگلینڈ کے فاسٹ بولرز کے ہاتھ میں ہے۔ میچ کے آخری لمحات میں حریف ٹیم کو بیٹنگ کے لیے میدان میں اترنا ہے، اور انگلش پیس بیٹری فلڈ لائٹس کے نیچے وکٹیں حاصل کرنے کے لیے تیار ہے۔
