وزارتِ مذہبی امور نے نجی حج آپریٹرز کو حتمی وارننگ جاری کر دی ہے۔ جن آپریٹرز نے ابھی تک اپنے حج پیکجز کو سسٹم پر ایکٹیو نہیں کیا، انہیں 72 گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے، بصورتِ دیگر ان کا کوٹہ فوری طور پر منسوخ کر دیا جائے گا۔
منگل کو جاری ہونے والی اس ہدایت کے مطابق، آپریٹرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے پورٹل رجسٹریشن مکمل کریں اور سعودی حکام کے ساتھ سروس کے معاہدوں کو حتمی شکل دیں۔ ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد غیر فعال کوٹہ ان کمپنیوں میں تقسیم کر دیا جائے گا جو آپریشنل تیاری کے اعتبار سے مستعد ہیں۔
حکومت کا یہ اقدام ’کوٹہ ہولڈنگ‘ کے رجحان کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جس میں کمپنیاں کوٹہ تو حاصل کر لیتی ہیں لیکن لاجسٹک انتظامات میں تاخیر کرتی ہیں، جس کا براہِ راست نقصان عازمینِ حج کو اٹھانا پڑتا ہے اور مارکیٹ میں قیمتیں غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہیں۔
وزارت کے ایک اعلیٰ افسر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم انتظامی تاخیر کے بہانے سننے کے لیے تیار نہیں۔ ہر گھنٹہ قیمتی ہے۔ اگر کوئی کمپنی اپنے مختص کردہ عازمین کی دیکھ بھال کی صلاحیت ثابت نہیں کر سکتی تو اسے اس سال حج آپریشن میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔”
وزارت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تقریباً 15 فیصد نجی آپریٹرز ابھی تک ‘پینڈنگ’ مرحلے میں ہیں۔ انہوں نے اپنے سروس ایگریمنٹس کو مرکزی حج پورٹل سے منسلک نہیں کیا، جس کی وجہ سے وہ عازمین پریشانی کا شکار ہیں جنہوں نے رقوم تو جمع کروا دی ہیں مگر انہیں ابھی تک کنفرمیشن کا انتظار ہے۔
انڈسٹری کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ سختی سعودی عرب کی جانب سے حج انفراسٹرکچر کے لیے طے کردہ سخت ٹائم لائنز کا نتیجہ ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے ویزا پروسیسنگ اور رہائش کی بکنگ کے عمل کو جلد مکمل کرنے کے مطالبے کے بعد، پاکستانی وزارت نے مقامی سطح پر سستی برداشت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اگرچہ بڑی اور مستند ٹریول کمپنیاں کافی حد تک تعمیل کر چکی ہیں، تاہم چھوٹی کمپنیاں نئے ڈیجیٹل سسٹم کی پیچیدگیوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ تین دن کا وقت بہت کم ہے، مگر حکومتی مؤقف میں کوئی لچک نظر نہیں آ رہی۔
ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد، وزارت ان نشستوں کو ان کمپنیوں میں تقسیم کرے گی جنہوں نے اپنے مالیاتی اور آپریشنل آڈٹ مکمل کر لیے ہیں۔ ہزاروں عازمین کے لیے اگلے تین دن انتہائی اہم ہیں؛ یہ فیصلہ کریں گے کہ ان کا سفرِ حج طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوگا یا انہیں دوبارہ نئے سرے سے انتظامات کرنے پڑیں گے۔
