نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ حکام نے لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد میں اچانک دوگنا اضافہ کر دیا ہے، جبکہ تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد 200 سے اوپر پہنچ گئی ہے۔
ملک کے کئی دیہات مکمل طور پر مٹی کے تودوں تلے دب چکے ہیں۔ مون سون کی غیر معمولی بارشوں نے شاہراہوں کا رابطہ توڑ دیا ہے اور وادی کٹھمنڈو کے متعدد علاقے باقی دنیا سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ امدادی ٹیمیں تباہ شدہ پلوں اور بند راستوں کے باعث متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کے لیے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ جہاں موسم اجازت دے رہا ہے، وہاں ہیلی کاپٹرز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
وزیر داخلہ رمیش لیکھک نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت کی اولین ترجیح ان دور دراز علاقوں تک پہنچنا ہے جہاں مواصلاتی نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ تباہی کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ مقامی انتظامیہ کے وسائل ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان کٹھمنڈو ویلی میں ہوا ہے۔ للیت پور کے رہائشیوں نے اپنی جانیں بچانے کے لیے راتیں گھروں کی چھتوں پر گزاریں، کیونکہ دریائے باگمتی کے کناروں کے ٹوٹنے سے گھر اور گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔ ماہرینِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ مقامی منڈیوں کی تباہی اور مواصلاتی رابطے منقطع ہونے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرینِ موسمیات اس تباہی کا ذمہ دار غیر متوقع مون سون کو ٹھہراتے ہیں۔ اگرچہ اس موسم میں بارش معمول کی بات ہے، لیکن حالیہ طوفانی سلسلے نے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلابی علاقوں میں غیر منصوبہ بند تعمیرات نے معمولی موسمیاتی تبدیلیوں کو ایک انسانی المیے میں بدل دیا ہے۔
بارشوں میں کمی کے ساتھ ہی اب توجہ ریسکیو سے ہٹ کر بحالی کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔ ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور عارضی پناہ گاہوں میں صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ حکومت پر فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، لیکن مون سون کا سیزن جاری رہنے کے باعث امدادی کارروائیوں کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ امدادی ٹیمیں اب پہاڑی علاقوں میں واقع ان دور دراز گاؤں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں جو لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مکمل طور پر کٹ چکے ہیں۔ تباہی کا حتمی تخمینہ مٹی ہٹنے اور متاثرہ آبادی سے رابطے بحال ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔
