انگلینڈ کو آنے والے برسوں میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اگلے بیس برسوں میں لاکھوں لوگوں کے گھروں میں پانی کی فراہمی معطل ہو سکتی ہے۔ یہ بحران صرف بارشوں کی کمی کا نتیجہ نہیں، بلکہ بوسیدہ انفراسٹرکچر، بڑھتی ہوئی طلب اور بدلتی ہوئی آب و ہوا کا مجموعی اثر ہے۔
ماحولیاتی ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق، اگر پانی کے ضیاع کو نہ روکا گیا تو 2050 تک انگلینڈ کو روزانہ 4 ارب لیٹر پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایجنسی کے سابق سربراہ سر جیمز بیون نے اسے "موت کا دہانہ” قرار دیا تھا—یعنی وہ مقام جہاں دستیاب پانی انسانی اور صنعتی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہو جائے گا۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ واٹر کمپنیاں اپنی کل سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ پائپ لائنوں میں لیکیج (رساؤ) کے باعث ضائع کر دیتی ہیں۔ واٹر یو کے کے ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "ہم اپنے پروڈکٹ کا پانچواں حصہ ضائع کر رہے ہیں جبکہ طلب ریکارڈ سطح پر ہے۔ یہ ایسا کاروباری ماڈل ہے جو کسی اور شعبے میں ایک دن بھی نہیں چل سکتا۔”
حکومت کی جانب سے نئے ذخائر اور ڈی سیلینیشن پلانٹس بنانے کے منصوبے تو موجود ہیں، لیکن یہ کام دہائیوں پر محیط ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر بوسیدہ پائپ لائنوں کی مرمت پر توجہ دینی چاہیے، جو برسوں سے نظر انداز کی جا رہی ہیں۔
اس بحران کا ایک بڑا پہلو مالیاتی ہے۔ واٹر کمپنیاں انفراسٹرکچر کی مرمت کے لیے صارفین کے بلوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ تاہم، سیوریج کے پانی کے اخراج اور کمپنی مالکان کے بھاری بونسز پر عوامی غصے کے باعث، عوام اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔
جنوبی اور مشرقی انگلینڈ میں پانی کی قلت کے آثار پہلے ہی نمایاں ہیں۔ موسم گرما میں نلکوں کے استعمال پر پابندیاں اور دریاؤں کی سطح میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ پانی کی کمی اب کوئی مستقبل کا مفروضہ نہیں، بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے۔
اگر پانی کے انتظام اور تحفظ کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیاں نہ لائی گئیں، تو "موت کا دہانہ” محض ایک اصطلاح نہیں رہے گی۔ یہ اس ملک کی تلخ حقیقت بن جائے گی جس نے اپنی سب سے بنیادی ضرورت کو اس وقت تک معمولی سمجھا جب تک کہ کنویں خشک نہیں ہو گئے۔
