واہگہ بارڈر — پیر کے روز 25 پاکستانی شہری بھارتی جیلوں میں قید کاٹنے کے بعد واہگہ بارڈر کے راستے اپنے وطن پہنچ گئے۔ یہ افراد طویل عرصے تک سرحد پار حراست میں رہنے کے بعد بالآخر اپنے خاندانوں سے ملنے کے لیے وطن واپس آئے ہیں۔
رہائی پانے والوں میں اکثریت ان ماہی گیروں کی ہے جو سمندری حدود کی خلاف ورزی کے الزام میں بھارتی حکام کی تحویل میں تھے۔ دوپہر کے وقت جب یہ قافلہ سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہوا تو رینجرز اور وزارت خارجہ کے حکام نے ان کا استقبال کیا۔ ان میں سے کئی افراد ایسے ہیں جو گزشتہ کئی ماہ سے گجرات کی مختلف جیلوں میں قید کاٹ رہے تھے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ 2008 کے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت ایک معمول کی کارروائی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث یہ عمل اکثر سست روی کا شکار رہتا ہے۔ سفارتی محاذ پر جمود کے باوجود، ماہی گیروں کی واپسی ان چند ایک امور میں سے ایک ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان مواصلاتی رابطے فعال رہتے ہیں۔
سرحد پر پہنچنے والے ان افراد کے چہروں پر تھکاوٹ نمایاں تھی۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق سندھ کے ساحلی علاقوں بدین اور ٹھٹہ سے ہے۔ سرحد پر طبی معائنے کے بعد، انہیں ضروری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے لیے منتقل کیا گیا۔
سمندری حدود کا تعین نہ ہونا ان ماہی گیروں کے لیے سب سے بڑا دردِ سر ہے۔ بحیرہ عرب میں سرحدیں واضح نہیں ہیں، اور اکثر ماہی گیر غیر ارادی طور پر بھارتی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔ بھارتی کوسٹ گارڈ کی جانب سے گرفتاری کے بعد، ان غریب مزدوروں کو قانونی پیچیدگیوں اور قونصلر رسائی کے طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس میں کئی بار سالوں بیت جاتے ہیں۔
ایدھی فاؤنڈیشن نے ان افراد کی وطن واپسی کے لیے سفری انتظامات اور ابتدائی امداد فراہم کی۔ فاؤنڈیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی رہائی خوش آئند ہے، مگر یہ مسئلہ مستقل حل طلب ہے تاکہ غریب ماہی گیروں کو ہر سال اس صورتحال سے نہ گزرنا پڑے۔
اب یہ تمام افراد اپنے آبائی علاقوں کی جانب روانہ ہوں گے۔ اگرچہ ان 25 خاندانوں کے لیے آج کا دن خوشیوں بھرا ہے، مگر بھارتی جیلوں میں اب بھی سینکڑوں پاکستانی شہری اپنی باری کے منتظر ہیں، جن کی واپسی کے لیے سفارتی سطح پر مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔
