ویانا — آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے معروف ’کنسٹ ہسٹوریشس‘ میوزیم میں منگل کی صبح ایک انتہائی منظم ڈکیتی ہوئی، جس میں چور سیکیورٹی کے سخت حصار کو توڑ کر کروڑوں یورو مالیت کا تاریخی ہیروں کا ہار لے اڑے۔
واردات صبح چار بجے کے قریب پیش آئی۔ سیکیورٹی الارم بجنے کے چند منٹ بعد جب پولیس میوزیم پہنچی تو مرکزی ہال میں شیشے کے ڈسپلے کیس کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے اور نمائش کا سب سے قیمتی نوادرات، 19ویں صدی کا شاہی ہار، اپنی جگہ سے غائب تھا۔
تفتیشی ٹیم کے سربراہ، انسپکٹر کلاؤس سٹینر نے میڈیا کو بتایا کہ یہ کسی اناڑی کا کام نہیں ہے۔ ان کے مطابق، چوروں نے میوزیم کے لیزر گرڈ سسٹم کو پہلے ہی غیر فعال کر دیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں عمارت کی سیکیورٹی کی مکمل معلومات حاصل تھیں۔
اس ہار کو ’ہیبسبرگ سٹار‘ کہا جاتا ہے، جس میں 150 قیراط سے زائد ہیرے جڑے ہیں۔ اس کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 4.5 ملین یورو بتائی جا رہی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی تاریخی اہمیت کے پیشِ نظر اسے کسی بھی قانونی نیلام گھر میں بیچنا ناممکن ہے۔
میوزیم کی ڈائریکٹر ایلینا فشر نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران جاری ہونے والے تمام سیکیورٹی لاگز اور عملے کی نقل و حرکت کی جانچ کر رہی ہے۔ انہوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ آیا اس واردات میں کسی اندرونی فرد کا ہاتھ ملوث ہو سکتا ہے۔
پولیس نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی ہے اور انٹرپول کی مدد سے مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دو افراد کو دیکھا جا سکتا ہے جنہوں نے سیاہ لباس پہن رکھے تھے اور وہ انتہائی مہارت سے میوزیم کے ہال میں داخل ہوئے۔
فی الحال میوزیم کو عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ تفتیش کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر اس ہار کو جلد بازیاب نہ کرایا گیا تو مجرم اسے ٹکڑوں میں توڑ کر فروخت کر سکتے ہیں، جس سے اس کی تاریخی حیثیت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔
