ریاض — سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے ملک میں صحت عامہ کو بہتر بنانے اور غذائی عادات میں تبدیلی لانے کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا قومی ‘فوڈ کمپوزیشن ڈیٹا بیس’ متعارف کروا دیا ہے۔ اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا مقصد مقامی سطح پر دستیاب ہزاروں اشیائے خوردونوش کی غذائی اقدار کا ایک مستند اور سائنسی ریکارڈ تیار کرنا ہے۔
ماضی میں، سعودی غذائی ماہرین کو اپنے مریضوں کے لیے ڈائٹ پلان بنانے یا تحقیق کرنے کے لیے اکثر یورپی یا امریکی ڈیٹا پر انحصار کرنا پڑتا تھا، جو مقامی کھانوں اور اجزاء کی حقیقت سے میل نہیں کھاتا تھا۔ اب اس ڈیٹا بیس کے ذریعے سعودی مارکیٹ میں دستیاب ہر مقامی اور درآمد شدہ پراڈکٹ کی غذائی ساخت، بشمول کیلوریز، چکنائی، نمک اور چینی کی درست مقدار تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔
اس اقدام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سعودی عرب میں موٹاپے اور ذیابیطس کی شرح خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں ہے۔ وزارت صحت کے حکام کے مطابق، بڑھتے ہوئے وزن اور غیر متوازن غذا سے جڑی بیماریاں ملکی معیشت اور صحت کے نظام پر شدید دباؤ ڈال رہی ہیں۔ یہ ڈیٹا بیس اب پالیسی سازوں کو حقائق پر مبنی فیصلے کرنے میں مدد دے گا۔
پروجیکٹ سے وابستہ ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ "ہم صرف کیلوریز نہیں گن رہے، بلکہ سعودی دسترخوان پر موجود ہر چیز کی غذائی اہمیت کا درست نقشہ تیار کر رہے ہیں۔”
اس ڈیٹا بیس کا سب سے بڑا فائدہ فوڈ انڈسٹری کو ہوگا۔ کمپنیاں اب اپنے پراڈکٹ فارمولیشن میں تبدیلی لا سکیں گی تاکہ ‘ویژن 2030’ کے تحت صحت کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔ ریسٹورنٹس اور کیٹرنگ سروسز کے لیے بھی یہ ایک معیار بنے گا، جس سے صارفین کو مینو کارڈز پر درست غذائی معلومات مل سکیں گی۔
یہ ڈیٹا بیس محض ایک آن لائن پورٹل نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی لیبارٹری ٹیسٹنگ اور تحقیق کارفرما ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پہلا قدم ہے؛ اگلا مرحلہ پیکڈ فوڈز پر لیبلنگ کے قوانین کو مزید سخت کرنا ہے تاکہ صارفین خریداری کے وقت ہی جان سکیں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ڈیٹا بیس عام آدمی کی عادات بدل سکے گا؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈیٹا کی شفافیت سے انڈسٹری پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ صحت بخش متبادل پیش کرے۔ اب سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ فوڈ انڈسٹری کتنی تیزی سے ان نئے قومی معیارات کو اپناتی ہے۔
