عالمی سطح پر گندم کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی سے اوپر جا رہی ہیں، جو کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اس اضافے کی وجہ کوئی ایک واقعہ نہیں، بلکہ جنگی حالات سے متاثرہ سپلائی چین اور تباہ کن موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک امتزاج ہے۔
دنیا کے اناج گھر سمجھے جانے والے خطے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ یوکرین پر روس کا حملہ غذائی تحفظ کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ بحیرہ اسود سے ہونے والی برآمدات، جو کبھی عالمی خوراک کی فراہمی کا مرکز تھیں، اب بحری حملوں اور انشورنس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث تعطل کا شکار ہیں۔
دوسری جانب، قدرتی آفات نے صورتحال مزید سنگین کر دی ہے۔ فرانس اور جرمنی—جو یورپ کے بڑے گندم پیدا کرنے والے ممالک ہیں—گزشتہ برسوں میں شدید بارشوں اور ہیٹ ویوز کی زد میں رہے جس سے فصلیں بری طرح متاثر ہوئیں۔ ادھر امریکہ کی ‘گریٹ پلینز’ میں مسلسل خشک سالی نے تاجروں کو مزید پریشان کر رکھا ہے، جس کے باعث سردیوں کے لیے ذخائر پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
شکاگو میں تعینات زرعی اجناس کے ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "مارکیٹ اب ایک مستقل ہنگامی صورتحال کے مطابق قیمتیں طے کر رہی ہے۔ اب ہم اس مرحلے سے گزر چکے ہیں جہاں صرف ایک اچھی فصل عالمی قلت کا ازالہ کر سکے۔ اناج کی ترسیل کا نظام اتنا ہی تباہ حال ہے جتنے کہ بدلتے ہوئے موسمیاتی پیٹرن۔”
اس بحران کی سب سے زیادہ زد ان ممالک پر پڑ رہی ہے جو درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک، جہاں کے عوام بحیرہ اسود کی سپلائی پر انحصار کرتے تھے، اب مقامی سطح پر روٹی اور آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی حکومتیں اب طویل مدتی معاہدوں کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہیں، جس سے اوپن مارکیٹ میں گندم کی دستیابی مزید محدود ہو گئی ہے۔
عام صارف کے لیے اس کا مطلب واضح ہے: آٹا، ڈبل روٹی اور پاستا جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتیں جلد نیچے آنے والی نہیں۔ خوردہ فروش پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ ہول سیل قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا بوجھ اب گاہکوں تک منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔
بحیرہ اسود کے تنازع میں کسی سفارتی پیش رفت کے آثار دکھائی نہیں دیتے، اور موسمیاتی ماڈلز یہ بتا رہے ہیں کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال ہی ‘نیا معمول’ ہے۔ عالمی منڈی اب خوراک کی قیمتوں میں ایک ایسے طویل مدتی افراطِ زر کے لیے تیار ہو رہی ہے جو موجودہ جغرافیائی سیاسی بحران کے ختم ہونے کے بعد بھی برقرار رہ سکتا ہے۔
