سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے صوبے کی تقسیم سے متعلق تمام قیاس آرائیوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سندھ کی جغرافیائی اور انتظامی حدود ناقابلِ تنسیخ ہیں اور ایسی کسی بھی بحث کی گنجائش نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ نے تقسیم کے مطالبے کو عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ ایک تاریخی حقیقت ہے اور اسے تقسیم کرنے کی باتیں کرنے والے صوبے کی تاریخ اور یہاں کے عوام کے جذبات سے ناواقف ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ "سندھ کی تقسیم کا تصور بھی ناقابلِ قبول ہے، ہم ایسی کسی بھی سوچ کو پنپنے نہیں دیں گے۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ سیاسی حلقوں کی جانب سے شہری مراکز، بالخصوص کراچی کے انتظامی معاملات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ صوبے کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں بہتری کی ضرورت ہے، تاہم وزیراعلیٰ اسے محض سیاسی مفادات کے حصول کا حربہ سمجھتے ہیں۔
سندھ حکومت کے قریبی ذرائع کے مطابق، مراد علی شاہ کا یہ سخت موقف دراصل ان سیاسی قوتوں کے لیے ایک پیغام ہے جو صوبائی یکجہتی کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ وزیراعلیٰ کا ماننا ہے کہ ایسے بیانات کا مقصد لسانی بنیادوں پر تقسیم پیدا کر کے سیاسی فوائد حاصل کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، صوبے کی تقسیم کا معاملہ ماضی میں بھی کئی بار اٹھایا گیا لیکن ہر بار اسے عوامی سطح پر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ مراد علی شاہ نے اس بار بھی اسی مؤقف کو دہراتے ہوئے یہ واضح کر دیا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی حدود پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔
فی الحال، وزیراعلیٰ نے اس بحث کو ختم کرنے کے لیے ایک مضبوط بیانیہ اپنایا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ دو ٹوک ردعمل سیاسی مخالفین کو خاموش کر پائے گا یا یہ تنازع آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کرے گا۔
