امریکی فارماسیوٹیکل کمپنی ‘ایلی للی’ نے مدافعتی امراض کے علاج میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے ‘میریڈا بائیوسائنسز’ کو 2.88 ارب ڈالر تک میں خریدنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ کمپنی اب وزن کم کرنے والی ادویات کے علاوہ اپنے کاروبار کو وسیع کرنے پر توجہ دے رہی ہے، خاص طور پر ان دائمی بیماریوں کے علاج پر جہاں موجودہ ادویات کے اثرات محدود ہیں۔
اس معاہدے کی مالیاتی ساخت کافی دلچسپ ہے۔ ایلی للی نے ابتدائی نقد ادائیگی کی رقم ظاہر نہیں کی، جبکہ اس سودے کا بڑا حصہ طبی کامیابیوں اور ریگولیٹری اہداف سے مشروط ہے۔ یہ للی کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے؛ کمپنی نے غیر آزمودہ اثاثوں پر بھاری رقم خرچ کرنے کے بجائے کامیابی کے مراحل کے ساتھ ادائیگیوں کو منسلک کیا ہے۔
میریڈا بائیوسائنسز کا کام بنیادی طور پر ایسی زبانی ادویات پر مرکوز ہے جو جسم کے حد سے زیادہ متحرک مدافعتی ردعمل کو قابو میں رکھتی ہیں۔ فی الحال اس شعبے میں زیادہ تر انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ادویات کا غلبہ ہے، جن کے ضمنی اثرات زیادہ ہوتے ہیں۔ مریضوں کے لیے ایک ایسی گولی جو انجیکشن جتنا ہی اثر دکھائے، علاج کے معیار میں ایک بڑا تغیر ثابت ہو سکتی ہے۔
ایلی للی کی اس خریداری کے پیچھے ایک واضح کاروباری مقصد کارفرما ہے۔ کمپنی کی کچھ پرانی ادویات کے پیٹنٹ ختم ہو رہے ہیں، جس کے باعث اسے نئے ریونیو ذرائع کی اشد ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد مدافعتی امراض کا شکار ہیں، اور اس شعبے میں ٹارگٹڈ تھراپیز کی مارکیٹ اگلے دس برسوں میں تیزی سے پھیلنے کی توقع ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو اپنے پورٹ فولیو میں شامل کر کے، ایلی للی اب ‘ایب وی’ اور ‘جانسن اینڈ جانسن’ جیسی بڑی کمپنیوں کے لیے ایک چیلنج بن کر ابھر رہی ہے۔
یہ سودا فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے ایک نئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے: بڑی کمپنیاں اب برسوں تحقیق پر خرچ کرنے کے بجائے چھوٹی بائیوٹیک فرموں کو خریدنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ یہ شارٹ کٹ انہیں تحقیق کے مراحل سے بچا کر براہِ راست مارکیٹ تک رسائی دیتا ہے۔
تاہم، اس راہ میں ریگولیٹری رکاوٹیں موجود ہیں۔ امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن دواسازی کے شعبے میں ہونے والے انضمام پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ یہ سودا براہِ راست مسابقت ختم کرنے کے بجائے نئی ٹیکنالوجی کے حصول پر مبنی ہے، لیکن حکام یہ ضرور دیکھیں گے کہ کہیں یہ خریداری مستقبل میں چھوٹے حریفوں کے لیے راستہ تو بند نہیں کر رہی۔
اگر یہ معاہدہ قانونی منظوری حاصل کر لیتا ہے، تو میریڈا کو ایلی للی کا عالمی نیٹ ورک اور مینوفیکچرنگ کی وسیع سہولیات میسر ہوں گی۔ فی الحال، انڈسٹری کی نظریں ان کلینیکل ڈیٹا رپورٹس پر ہیں جو یہ طے کریں گی کہ کیا میریڈا کی یہ تحقیق لیبارٹری سے نکل کر دواخانوں تک پہنچ پائے گی یا نہیں۔
