یہ جزیرہ کاغذ پر تو موجود تھا، لیکن حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ تقریباً ایک صدی تک ’سینڈی آئی لینڈ‘ بحیرہ کورل میں آسٹریلیا اور نیو کیلیڈونیا کے درمیان نقشوں پر ایک نمایاں مقام کے طور پر دکھایا جاتا رہا، لیکن 2012 میں سائنسدانوں نے وہاں پہنچ کر دیکھا تو انہیں صرف گہرا نیلا سمندر ملا۔
اس جزیرے کی کہانی انسانی غلطیوں اور قدیم روایتوں کا ایک عجیب امتزاج ہے۔ یہ پہلی بار 1876 میں برطانوی ایڈمرلٹی کے چارٹ پر نمودار ہوا، جب ایک وہیل کا شکار کرنے والے جہاز ’ویلاسٹی‘ نے اسے دیکھنے کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد آنے والی دہائیوں میں دیگر ملاحوں نے بھی اس کی موجودگی کی تصدیق کی، جس کے بعد یہ جزیرہ گوگل ارتھ سمیت دنیا بھر کے مستند نقشوں کا حصہ بن گیا۔
لیکن نومبر 2012 میں یہ طلسم ٹوٹ گیا۔ سڈنی یونیورسٹی کے محققین اپنے جہاز ’آر وی سدرن سرویئر‘ پر سمندری فرش کی ٹیکٹونک پلیٹوں کا جائزہ لے رہے تھے۔ جب وہ ان کوآرڈینیٹس پر پہنچے جہاں نقشے کے مطابق جزیرہ ہونا چاہیے تھا، تو وہاں خشکی کے بجائے 1400 میٹر گہرا سمندر تھا۔
مہم کی سربراہ ڈاکٹر ماریہ سیٹن نے اس وقت حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ہمیں وہاں جزیرہ ملنے کی توقع تھی، لیکن وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ نقشوں پر موجود تھا لیکن حقیقت میں اس کا نام و نشان نہیں تھا۔”
سوال یہ ہے کہ ایک خیالی جزیرہ اتنے عرصے تک نقشوں پر کیسے برقرار رہا؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ ’کاپی ٹریپ‘ ہے۔ نقشہ ساز اکثر اپنے کام کی چوری روکنے کے لیے نقشوں میں جان بوجھ کر کچھ ایسی جگہیں شامل کر دیتے ہیں جن کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ اگر کوئی دوسرا ادارہ ان کا نقشہ چوری کرے تو وہ ان جعلی مقامات کو بھی نقل کر لیتا ہے، جس سے چوری ثابت ہو جاتی ہے۔ سینڈی آئی لینڈ شاید 19ویں صدی کے کسی ملاح کی غلط فہمی (شاید سمندر پر تیرتے جھاگ یا بادلوں کا ٹکڑا) کے طور پر شروع ہوا اور پھر بعد میں آنے والے نقشہ سازوں نے اسے بغیر تصدیق کیے اپنے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔
اس انکشاف کے بعد نیشنل جیوگرافک اور دیگر ہائیڈروگرافک ایجنسیوں نے فوراً اپنے ڈیٹا بیس سے اس جزیرے کو ہٹا دیا۔ گوگل ارتھ نے بھی اس ڈیجیٹل بھوت کو اپنے سرورز سے حذف کر دیا۔
آج، جہاں سینڈی آئی لینڈ کا نشان تھا، وہاں صرف پانی کی لہریں ہیں۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آج کے جدید دور میں بھی، جہاں ہم سیٹلائٹس اور جی پی ایس پر انحصار کرتے ہیں، ہماری معلومات صرف اتنی ہی درست ہیں جتنا کہ اس ڈیٹا پر ہمارا بھروسہ۔ کبھی کبھی نقشے پر سب سے بڑی حقیقت وہی ہوتی ہے جسے ہم نے صرف اپنے ذہن میں تخلیق کیا ہوتا ہے۔
