سیول — جنوبی کوریا نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اپنے تمام شہریوں کو مفت ’جنینیٹو اے آئی‘ ٹولز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینا اور ٹیکنالوجی تک رسائی میں حائل خلیج کو ختم کرنا ہے۔
وزارتِ سائنس و آئی سی ٹی کے مطابق، یہ منصوبہ محض ایک سہولت نہیں بلکہ عالمی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اپنی برتری برقرار رکھنے کی ایک حکمت عملی ہے۔ حکومتی حکام کا ماننا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور افرادی قوت کے چیلنجوں کے پیشِ نظر، ہر شہری کو اے آئی ٹولز سے لیس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حکومت نے ابھی کسی مخصوص پلیٹ فارم کے نام کا اعلان نہیں کیا، تاہم یہ واضح کیا ہے کہ مقامی سطح پر تیار کردہ اے آئی ماڈلز استعمال کیے جائیں گے تاکہ کوریائی زبان کی باریکیوں اور مقامی ثقافتی تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
منصوبے کے ناقدین ڈیٹا کی حفاظت اور غلط معلومات کے پھیلاؤ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ وزارت نے جواب میں یقین دہانی کرائی ہے کہ اس سروس کے ساتھ ‘ڈیجیٹل اخلاقیات’ کی لازمی تربیت اور سخت حفاظتی فلٹرز شامل ہوں گے تاکہ کسی بھی قسم کے نقصان دہ مواد کو بننے سے روکا جا سکے۔
ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے منگل کو پریس بریفنگ میں کہا: "ٹیکنالوجی صرف امیر یا تکنیکی ماہرین کی جاگیر نہیں ہونی چاہیے۔ ہم اے آئی تک رسائی کو عام بنا رہے ہیں تاکہ ہمارا ہر شہری مستقبل کی معیشت کے لیے تیار رہے۔”
یہ پروگرام آئندہ سال کے اوائل میں مرحلہ وار شروع ہوگا۔ ابتدائی طور پر ان دیہی علاقوں اور معمر شہریوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی جو ڈیجیٹل تبدیلی کے تیز رفتار دور میں پیچھے رہ گئے تھے۔
جنوبی کوریا کی حکومت اس پیش قدمی کے ذریعے نجی شعبے اور عام شہریوں کے درمیان ٹیکنالوجی کے فرق کو مٹانا چاہتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ سرکاری اقدام نجی کمپنیوں کی جدت طرازی کو متاثر کرے گا، یا پھر یہ ملک کو ایک مکمل خودکار معیشت کی جانب لے جائے گا۔
