خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے انکشاف کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تقرری کے عمل کو روکنے کی واضح ہدایت کی تھی۔
ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس بننا پارٹی کے مفاد میں نہیں اور اس "سسٹم” کو ہر صورت روکا جائے۔ یہ بیان اس سیاسی تناؤ کی تصدیق کرتا ہے جو گزشتہ ایک سال سے تحریک انصاف اور عدلیہ کے اعلیٰ ایوانوں کے درمیان جاری ہے۔
"انہوں نے ہمیں صاف کہا تھا کہ اسے روکنا ہے،” گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی کے اس پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو پی ڈی ایم حکومت کے دور میں موصول ہوا تھا۔ ان کے مطابق، یہ مخالفت محض ایک جج کی ذات تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کا تعلق اس پورے نظام سے تھا جسے پارٹی "اپنے خلاف سازش” قرار دیتی رہی ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ستمبر 2023 میں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ ان کی تقرری سے قبل ہی پی ٹی آئی کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جن کی جڑیں 2019 میں دائر ہونے والے صدارتی ریفرنس میں پیوست ہیں۔ تحریک انصاف کا موقف رہا ہے کہ عدلیہ کے اندر ہونے والی تبدیلیاں پارٹی کو دیوار سے لگانے کا ایک منصوبہ تھیں۔
گنڈاپور کی جانب سے اس ہدایت کا اعلانیہ اعتراف اس سیاسی بیانیے کو مزید تقویت دیتا ہے جس میں پی ٹی آئی خود کو "ریاستی مشینری” کے مقابل ایک مظلوم قوت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک، یہ انکشاف سپریم کورٹ میں جاری موجودہ قانونی بحران اور مخصوص نشستوں کے کیس جیسے معاملات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
دوسری جانب، ناقدین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے حوالے سے ایسی بیانات عدلیہ کی ساکھ کو مزید متنازعہ بنانے کا باعث بنتے ہیں۔ گنڈاپور نے یہ نہیں بتایا کہ اس تقرری کو روکنے کے لیے پارٹی نے عملی طور پر کیا اقدامات کیے، تاہم یہ واضح کر دیا کہ اڈیالہ جیل سے ملنے والی یہ ہدایات پارٹی کی حکمت عملی کا مرکزی حصہ تھیں۔
عدالتی فیصلوں اور سیاسی مستقبل کے درمیان پھنسی تحریک انصاف اب اپنے بانی کے ان فیصلوں کو "اصولی موقف” قرار دے کر عوام کے سامنے لا رہی ہے۔ اس بیان کے بعد، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عدالتی امور پر جاری لفظی جنگ میں شدت آنے کا امکان ہے۔
