فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) نے کراچی کی مصروف ترین شاہراہ، یونیورسٹی روڈ پر جاری تعمیراتی کام کو ستمبر کے اختتام تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کر لیا ہے۔ طویل عرصے سے جاری اس منصوبے میں تاخیر کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے، لیکن اب حکام نے روڈ کی باقی ماندہ لینز کی تعمیر اور اسفالٹ بچھانے کا عمل تیز کر دیا ہے۔
ایکسپو سینٹر اور نیپا کے قریب سڑک کی بندش اور تنگ راستوں نے روزانہ کے سفر کو ایک امتحان بنا رکھا ہے۔ ٹریفک کا دباؤ اب متبادل راستوں پر منتقل ہو چکا ہے، جس سے شہر کے دیگر حصوں میں بھی جام کی صورتحال رہتی ہے۔ ایف ڈبلیو او کے انجینئرز کا کہنا ہے کہ نکاسی آب کے نظام کو حتمی شکل دینے کے بعد اب آخری مرحلے پر کام جاری ہے، جس کے مکمل ہوتے ہی سڑک مکمل طور پر ٹریفک کے لیے کھول دی جائے گی۔
مقامی تاجروں اور رہائشیوں میں اس اعلان پر ملے جلے جذبات پائے جاتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں کئی بار ڈیڈ لائنز کے گزر جانے کے بعد، شہریوں کا اعتماد متزلزل ہے۔ نیپا چورنگی کے قریب ایک دکاندار نے بتایا کہ "ہم نے ایسی کئی تاریخیں سنی ہیں۔ مشینیں آتی ہیں، کچھ دن کام ہوتا ہے اور پھر سب کچھ ویسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہمیں صرف دھول اور ٹریفک سے نجات چاہیے۔”
منصوبے کی بروقت تکمیل صرف ٹریفک روانی کے لیے نہیں، بلکہ حفاظتی نقطہ نظر سے بھی اہم ہے۔ تعمیراتی کام کے دوران کھلے مین ہولز اور سڑک کی اونچی نیچی سطح متعدد حادثات کا سبب بن چکی ہے۔
مون سون کی غیر متوقع بارشیں اس منصوبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ اگر ستمبر کے آخر تک کام مکمل نہ ہوا تو بارشوں کے باعث کام کی رفتار مزید سست پڑ سکتی ہے، جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ ایف ڈبلیو او کے لیے اب یہ صرف ایک تعمیراتی ہدف نہیں، بلکہ اپنی ساکھ بحال کرنے کا امتحان بھی ہے کہ آیا وہ ستمبر کی ڈیڈ لائن پر عملدرآمد کر پاتے ہیں یا نہیں۔
