وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کو صوبائی حیثیت دینے کے مطالبے کی کھل کر حمایت کر دی ہے۔ سینیٹ میں خطاب کے دوران انہوں نے خود کو اس تجویز کا سب سے بڑا وکیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ اپنی افادیت کھو چکا ہے۔
محسن نقوی کا موقف ہے کہ اسلام آباد کو صوبہ بنانے سے فیصلہ سازی کا عمل تیز ہوگا اور ترقیاتی منصوبوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کے انتظامی امور جس طرح بکھرے ہوئے ہیں، اس سے شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات پیش آتی ہیں اور صوبائی حیثیت ان مسائل کا واحد پائیدار حل ہے۔
دارالحکومت کا انتظامی نظام طویل عرصے سے تنقید کی زد میں ہے۔ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) انتظامیہ کے درمیان اختیارات کا ٹکراؤ اکثر ترقیاتی کاموں کو تعطل کا شکار کرتا ہے۔ محسن نقوی کا یہ بیان اس بحث کو ایک نئی جہت دیتا ہے کہ کیا واقعی وفاقی دارالحکومت کو ایک الگ صوبائی اکائی کے طور پر چلانے کا وقت آ گیا ہے۔
وزیر داخلہ کا یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کے طور پر انتظامی تبدیلیوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ تاہم، سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ راستہ اتنا آسان نہیں۔ صوبائی درجہ دینے کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے، جس کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کا ہونا لازمی ہے۔ موجودہ سیاسی تقسیم کے پیش نظر حکومت کے لیے یہ ہدف حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
دوسری جانب، سیاسی حلقوں میں اس تجویز پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کچھ حلقے اسے انتظامی بہتری کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں، جبکہ ناقدین کا خدشہ ہے کہ یہ قدم دیگر انتظامی اکائیوں کی جانب سے بھی ایسے ہی مطالبات کو جنم دے سکتا ہے، جس سے وفاقی ڈھانچے میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
محسن نقوی کا یہ اعلان محض ایک سیاسی بیان ہے یا حکومت کسی باقاعدہ قانون سازی کی تیاری کر رہی ہے، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔ فی الحال، یہ موضوع پارلیمان کے ایوانوں میں ایک نئی بحث چھیڑ چکا ہے جس کا حتمی نتیجہ اتحادی جماعتوں کے اتفاق رائے پر منحصر ہے۔
