انڈونیشیا کے مشرقی صوبے میں ماؤنٹ لیوٹوبی لاوکی-لاوکی آتش فشاں کے شدید دھماکے نے فضائی آپریشن کو مفلوج کر دیا ہے۔ فضا میں راکھ کے بادلوں کے پھیلاؤ کے باعث متعدد ایئرپورٹس بند کر دیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار مسافر ملک بھر کے مختلف ٹرمینلز پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔
پروازوں کی منسوخی کا سلسلہ منگل کی صبح شروع ہوا، جب آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ نے ہوا بازی کے راستوں کو غیر محفوظ بنا دیا۔ ماہرین کے مطابق، راکھ کے ذرات طیاروں کے انجنوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں، اسی لیے حکام نے کسی بھی قسم کا رسک لینے سے گریز کیا ہے۔
وزارت ٹرانسپورٹ کے ایک ترجمان نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ہم صورتحال کا لمحہ بہ لمحہ جائزہ لے رہے ہیں۔ مسافروں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، اور جب تک راکھ فضا میں موجود ہے، پروازیں بحال کرنا ممکن نہیں۔”
سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں وہ سیاح شامل ہیں جو لابوان باجو جیسے اہم مراکز پر پھنسے ہوئے ہیں۔ ایئرپورٹ ٹرمینلز پر مسافروں کا رش بڑھتا جا رہا ہے، اور کاؤنٹرز پر ٹکٹوں کی دوبارہ بکنگ کے لیے طویل قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ مقامی ہوٹلوں میں گنجائش ختم ہو رہی ہے، جس سے انتظامیہ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر رہائش کا انتظام کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ماؤنٹ لیوٹوبی پچھلے کئی ہفتوں سے متحرک تھا، لیکن منگل کو ہونے والا دھماکہ توقعات سے کہیں زیادہ شدید تھا۔ زلزلہ پیما آلات نے دھماکے سے کچھ دیر قبل ہی جھٹکوں میں تیزی ریکارڈ کی تھی، جس کے بعد راکھ کا کالم ہزاروں میٹر بلندی تک جا پہنچا۔
حکومت نے آتش فشاں کے گرد نو کلومیٹر کے علاقے کو ‘نو گو زون’ قرار دیتے ہوئے نقل مکانی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق، اب بھی لاوے کے بہاؤ اور گرم راکھ کے بادلوں کا خطرہ موجود ہے۔
فی الحال، 1 لاکھ 70 ہزار مسافروں کی واپسی کا انحصار آتش فشاں کی سرگرمیوں میں کمی پر ہے۔ جب تک قدرت کا یہ غیض و غضب تھم نہیں جاتا، ان مسافروں کے لیے گھر واپسی کا سفر صرف ایک غیر یقینی انتظار میں بدل چکا ہے۔
