کراچی: میر رضا کے چہلم کے موقع پر کراچی میں سوگواروں کا ایک بڑا اجتماع منعقد ہوا، جہاں شرکاء نے نوجوان کی موت کو ایک بار پھر انصاف کا تقاضا قرار دیا۔ تقریب کے دوران میر رضا کے والد کا لہجہ غمگین مگر انتہائی پرعزم تھا، جنہوں نے اپنے بیٹے کی موت کو محض حادثہ ماننے سے انکار کر دیا۔
مجمع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ "ہمیں ہمدردی نہیں، انصاف چاہیے۔ میرے بیٹے کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، اور جب تک ذمہ داران کو کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، ہم سڑکوں پر موجود رہیں گے۔”
یہ واقعہ کراچی میں پولیس کی مبینہ غفلت اور نظامِ انصاف پر اٹھنے والے سوالات کی ایک نئی لہر بن چکا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں سے آنے والے شہری اسے محض ایک فرد کا نہیں، بلکہ پورے نظام کا مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی اسی طرح کے واقعات کو دبا دیا گیا، جس کی وجہ سے مجرموں کے حوصلے بلند ہیں۔
سول سوسائٹی کے ارکان اور مقامی کارکنوں نے اس موقع پر ایک بار پھر آزادانہ عدالتی انکوائری کا مطالبہ دہرایا۔ ان کا موقف ہے کہ پولیس کی اپنی تفتیش پر انہیں کوئی اعتماد نہیں، کیونکہ ایسے معاملات میں اکثر تحقیقات کو تاخیر کا شکار کر کے ثبوتوں کو ضائع کیا جاتا ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ حکومتی خاموشی پر عوامی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، اور ناقدین کا کہنا ہے کہ حکام اس انتظار میں ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ عوامی غم اور غصہ خود بخود ٹھنڈا پڑ جائے گا۔
چہلم کے بعد شرکاء نے علاقے میں مختصر احتجاجی مارچ بھی کیا، جس میں انصاف کی فراہمی کے نعرے لگائے گئے۔ دوسری جانب، خاندان کے وکلاء اب ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، تاکہ تحقیقات کو مقامی سطح سے نکال کر اعلیٰ عدلیہ کی نگرانی میں لایا جا سکے۔
میر رضا کے والد کے لیے یہ جنگ اب صرف ایک قانونی لڑائی نہیں، بلکہ ایک اخلاقی فرض بن چکی ہے۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ریاستی ادارے حرکت میں نہیں آئے تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔ ان کا عزم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کراچی کی سڑکوں پر انصاف کا یہ مطالبہ آنے والے دنوں میں حکام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
