معیشت کے اعداد و شمار اور عام آدمی کی جیب کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا ہو چکی ہے۔ ماہرین اسے "مایوسی کا دور” قرار دے رہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ کے بلند ریکارڈ اور افراطِ زر میں معمولی کمی کے دعوے اپنی جگہ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام شہری کی زندگی میں بہتری کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔
یہ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ قوتِ خرید میں آنے والی وہ مستقل گراوٹ ہے جس نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔
حکومتی دعووں کے برعکس، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں نیچے نہیں آئیں۔ وہ صرف بڑھنے کی رفتار میں سست ہوئی ہیں۔ تین سال قبل جو سودا سلف ایک ہزار روپے میں آتا تھا، آج اس کے لیے دگنی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ تنخواہوں میں ہونے والا معمولی اضافہ مہنگائی کی اس دوڑ میں بہت پیچھے چھوٹ چکا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا "سسٹمک شاک” ہے جس کا اثر صرف ایک سال تک محدود نہیں رہے گا۔ گھر کی ملکیت کا خواب، جو پچھلی نسلوں کے لیے ایک حقیقت تھا، آج کی نوجوان نسل کے لیے ناممکن حد تک مشکل ہو چکا ہے۔ کرائے کے گھروں کی بڑھتی قیمتیں اور یوٹیلیٹی بلز نے بچت کے تمام راستے مسدود کر دیے ہیں۔
ایک نجی تحقیقی ادارے سے وابستہ ماہرِ معاشیات نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم معاشی ترقی کے جس ماڈل پر بات کر رہے ہیں، وہ صرف بڑے کارپوریٹس کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔ عام آدمی کے لیے یہ ترقی صرف کاغذوں تک محدود ہے۔ جب تک بنیادی ضروریات کی قیمتیں آمدنی کے تناسب سے نیچے نہیں آتیں، یہ بے چینی ختم نہیں ہوگی۔”
معاشرتی سطح پر یہ مایوسی اب ایک تھکن کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ لوگ اب سیاسی نعروں یا معاشی ترقی کے اعداد و شمار پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ ان کے لیے "ترقی” کا مطلب تبھی مکمل ہوگا جب ان کی ماہانہ آمدنی انہیں ایک باعزت اور سکون بھری زندگی فراہم کر سکے۔
جب تک آمدنی کا توازن زندگی گزارنے کے اخراجات سے ہم آہنگ نہیں ہوتا، تب تک یہ "مایوسی کا دور” برقرار رہے گا۔ معیشت تو شاید ترقی کر رہی ہو، لیکن اس معیشت کو چلانے والا عام آدمی اب صرف اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔
