جامعہ کراچی کے ایک سینئر پروفیسر کو نامعلوم افراد نے اغوا کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے تعلیمی حلقوں میں سراسیمگی پھیل گئی۔ واقعہ منگل کے روز پیش آیا جب پروفیسر اپنی تدریسی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بعد کیمپس سے باہر نکل رہے تھے۔
متاثرہ پروفیسر کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کے جسم کے مختلف حصوں پر گہرے زخم اور اندرونی چوٹیں آئی ہیں۔ حملہ آوروں نے پروفیسر کو گاڑی میں ڈال کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا اور تشدد کے بعد انہیں کیمپس کے قریب ہی پھینک کر فرار ہو گئے۔
فیکلٹی ممبران کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک مجرمانہ واقعہ نہیں بلکہ تعلیمی ماحول کو خوفزدہ کرنے کی منظم کوشش ہے۔ شعبہ تدریس کے ایک سینئر استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "اگر استاد ہی کیمپس کے اندر محفوظ نہیں، تو ہم طلبہ کو کیا تحفظ دیں گے؟”
یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ پڑتال شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم، اساتذہ کی تنظیموں نے انتظامیہ کی سیکیورٹی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کیمپس میں سیکیورٹی کا نظام صرف نام کا ہے اور اس طرح کے واقعات انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ تو درج کر لیا ہے، لیکن تاحال کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے پروفیسر کے حالیہ تعلیمی اور انتظامی امور کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یونیورسٹی کے مرکزی دروازے پر طلبہ اور اساتذہ کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے کیمپس میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں۔
وائس چانسلر کی جانب سے فیکلٹی نمائندگان کے ساتھ ہنگامی اجلاس آج متوقع ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف یونیورسٹی کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ اساتذہ کے لیے اپنے فرائض کی انجام دہی کو بھی ایک چیلنج بنا دیا ہے۔
