سندھ ہیومن رائٹس کمیشن نے میر رضا علی کیس میں پیش رفت نہ ہونے پر صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے یہ اقدام محکمہ داخلہ کی جانب سے مسلسل خاموشی اور کیس کی تفصیلات فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
میر رضا علی کی گمشدگی اور اس کے بعد سامنے آنے والے قانونی پیچیدگیوں کے معاملے نے کراچی میں انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حقائق چھپا رہے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔
کمیشن نے وزیر داخلہ کو اس لیے بلایا ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ محکمہ داخلہ نے اب تک کمیشن کی جانب سے مانگی گئی رپورٹیں کیوں جمع نہیں کرائیں۔ ذرائع کے مطابق، کمیشن کا ماننا ہے کہ سرکاری اداروں کی جانب سے فائلیں دبانے کا عمل اب حد سے بڑھ چکا ہے، جس کے لیے اب براہِ راست وزیرِ داخلہ کا جوابدہ ہونا ضروری ہے۔
سندھ میں امن و امان کی موجودہ صورتحال پہلے ہی حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں وزیر داخلہ کا کمیشن کے سامنے پیش ہونا ایک بڑا امتحان ہے۔ اگر وہ خود پیش نہیں ہوتے، تو اس سے کمیشن اور حکومت کے درمیان خلیج مزید گہری ہونے کا خدشہ ہے۔
سماعت رواں ہفتے متوقع ہے۔ سیاسی مبصرین کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا ضیاء الحسن لنجار کمیشن کے سامنے پیش ہو کر ٹھوس جواب دیں گے یا پھر اسے روایتی سرکاری تاخیری حربوں کی نذر کر دیا جائے گا۔
اگر محکمہ داخلہ نے اس بار بھی تعاون نہ کیا تو کمیشن کے پاس قانونی دائرہ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے سخت اقدامات کرنے کا راستہ کھلا ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک شخص کی بازیابی کا نہیں، بلکہ صوبے میں قانون کی بالادستی اور اداروں کے احتساب کا امتحان بن چکا ہے۔
