کٹھمنڈو — نیپال کے ضلع سندھوپالچوک میں مون سون کی تباہ کاریاں تھمے ہفتے بیت چکے ہیں، لیکن زمین پر موجود گہرے زخم اب بھی باقی ہیں۔ مقامی امدادی کارکنوں کے لیے قدرتی آفات کے اثرات سے نمٹنا اب ایک نئی مالی پریشانی کا باعث بن رہا ہے: امریکی امداد کی بندش کا خوف۔
نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیرونی امدادی پروگراموں، خاص طور پر کے بجٹ میں کٹوتی کے اشاروں نے ہمالیہ کے دامن میں کام کرنے والی این جی اوز میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ وہ منصوبے جو طویل مدتی امریکی وعدوں پر انحصار کرتے تھے، اب نئے مالی سال کے آغاز سے قبل ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
کٹھمنڈو میں کام کرنے والی ایک امدادی تنظیم کے فیلڈ کوآرڈینیٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم یہاں دفتری تبدیلیوں کی بات نہیں کر رہے، بلکہ ان منصوبوں کی بات کر رہے ہیں جو ادھورے رہ جائیں گے۔ اگر فنڈز رک گئے تو دریاؤں کے کناروں پر نصب کیے گئے ابتدائی انتباہی نظام محض بے کار لوہے کا ڈھیر بن کر رہ جائیں گے۔”
نیپال دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ یہاں کی جغرافیائی ساخت ایسی ہے کہ معمولی بارش بھی اکثر لینڈ سلائیڈنگ اور تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ تاریخی طور پر ان مقامی منصوبوں کا سب سے بڑا مالی معاون رہا ہے، جن کا مقصد دریائی کناروں کو مضبوط کرنا اور مقامی رضاکاروں کو ہنگامی صورتحال کے لیے تربیت دینا ہے۔
واشنگٹن میں جب "امریکہ فرسٹ” کی معاشی پالیسیوں پر بحث ہو رہی ہے، تو اس کا عملی اثر نیپال کے دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں صاف دکھائی دے رہا ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ تباہی کے بعد تعمیرِ نو پر آنے والی لاگت، پیشگی حفاظتی اقدامات کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ تاہم، امریکی دارالحکومت کا موجودہ رجحان بین الاقوامی استحکام کے بجائے داخلی اخراجات کو ترجیح دے رہا ہے۔
مقامی حکام اب متبادل عطیہ دہندگان کی تلاش میں سرگرداں ہیں، لیکن صورتحال حوصلہ افزا نہیں۔ یورپی اور ایشیائی امدادی پیکیجز کے ساتھ اکثر طویل انتظامی مراحل اور سست رفتاری جڑی ہوتی ہے، جو کے قائم کردہ نیٹ ورک کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
سندھوپالچوک کے مکینوں کے لیے امریکی پالیسیوں میں یہ تبدیلی ایک براہِ راست خطرہ ہے۔ وہ اب صرف اگلی بارش کے بادلوں کو نہیں دیکھ رہے، بلکہ اس خبر کے منتظر ہیں کہ وہ امداد جس نے ان کے گاؤں کو رہنے کے قابل بنایا تھا، اب شاید بند ہو رہی ہے۔
فیلڈ کوآرڈینیٹر نے تلخ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا، "واشنگٹن اسے بجٹ میں ایڈجسٹمنٹ کہتا ہے، لیکن ہمارے لیے یہ اس حفاظتی حصار کا خاتمہ ہے جسے ہم نے ایک دہائی کی محنت سے تعمیر کیا تھا۔”
