چینی آئس بریکر ‘زیو لونگ 2’کی آرکٹک سے کامیاب واپسی نے عالمی سمندری تجارت اور جغرافیائی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ سفر محض ایندھن بچانے یا فاصلہ کم کرنے کی کوشش نہیں، بلکہ بیجنگ کی جانب سے خود کو ایک "نیئر آرکٹک اسٹیٹ” کے طور پر منوانے کی ایک سوچی سمجھی مہم ہے۔
روایتی طور پر شنگھائی سے یورپ جانے کے لیے بحیرہ احمر اور نہرِ سویز کا راستہ استعمال کیا جاتا ہے۔ آرکٹک کا یہ شمالی سمندری راستہ سفر کو تقریباً 20 فیصد تک مختصر کر سکتا ہے، مگر اس میں خطرات کم نہیں۔ برفانی تودے، سخت موسمی حالات اور مہنگا انشورنس پریمیم اس راستے کو نجی شپنگ کمپنیوں کے لیے فی الحال غیر منافع بخش بناتے ہیں۔ پھر چین اس راستے پر کیوں زور دے رہا ہے؟
اس کا جواب معاشیات سے زیادہ سیاست میں پوشیدہ ہے۔ روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کے تناظر میں، بیجنگ آرکٹک کے ان پانیوں میں اپنی موجودگی کو معمول پر لا رہا ہے جہاں اب تک ماسکو اور نیٹو کا اثر و رسوخ رہا ہے۔ یہ سفر دراصل ایک "اسٹریٹجک ٹیسٹ” ہے، جس کے ذریعے چین یہ دیکھ رہا ہے کہ وہ کتنی تیزی سے اپنے بحری جہازوں کو ان دور دراز علاقوں میں متحرک رکھ سکتا ہے۔
میری ٹائم پالیسی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ بیجنگ یہاں فوری منافع نہیں ڈھونڈ رہا۔ ان کی نظریں آرکٹک کے نیچے چھپے معدنی وسائل اور مستقبل کے تجارتی راستوں پر ہیں۔ ایک سینئر تجزیہ کار کے مطابق، "چین یہاں صرف جہاز نہیں گزار رہا، بلکہ وہ سمندری حدود کی میپنگ کر رہا ہے اور سیٹلائٹ مواصلات کے تجربات کر رہا ہے تاکہ جب یہ راستہ مستقل طور پر کھل جائے، تو بیجنگ کا کنٹرول پہلے سے مضبوط ہو۔”
امریکہ اور اس کے اتحادی اس پیش رفت کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ واشنگٹن کا موقف ہے کہ آرکٹک کو فوجی اور سیاسی رقابت سے پاک رہنا چاہیے۔ تاہم، چین کی یہ "برفانی سفارت کاری” اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عالمی طاقتوں کا توازن اب قطب شمالی کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
فی الحال، یہ راستہ تجارتی جہازوں کے لیے ایک متبادل کے بجائے ایک سیاسی بیان زیادہ ہے۔ چین نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ روایتی راستوں کا محتاج نہیں رہا۔ جب تک آرکٹک کی برف پگھلتی رہے گی، یہ "شارٹ کٹ” عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئے محاذ کی بنیاد بنتا رہے گا۔
