نیویارک — نائن الیون کے حملوں کو پچیس برس بیت چکے ہیں، مگر لوئر مین ہیٹن کی فضا میں آج بھی وہی خاموشی تھی۔ گراؤنڈ زیرو پر قائم یادگار پر چار سابق امریکی صدور — جارج ڈبلیو بش، باراک اوباما، بل کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ — ایک ساتھ موجود تھے، جہاں انہوں نے 2001 کے اس سیاہ دن میں جان گنوانے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب کا ماحول سیاسی کشیدگی سے پاک تھا۔ صدور نے اسٹیج پر جا کر کوئی تقریر نہیں کی؛ مائیکروفون ان خاندانوں کے لیے کھلا تھا جن کے پیارے اس روز ملبے تلے دب گئے تھے۔ پچیس برس بعد بھی، متاثرین کے لواحقین کے لیے وہ صبح کسی پرانی فلم کی طرح تازہ ہے۔
یادگاری پولز کے کنارے کھڑے ہو کر جب نام پکارے گئے تو نیویارک کی بلندیوں کے درمیان صرف وہی آوازیں گونج رہی تھیں۔ وہاں موجود ہزاروں افراد نے آسمان کی طرف دیکھا، جو آج بھی اسی طرح صاف تھا جیسا اس منگل کی صبح تھا۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات اپنی جگہ، مگر توجہ صرف اس نقصان پر رہی جو امریکہ نے کبھی فراموش نہیں کیا۔ پچیس برس میں شہر کی اسکائی لائن بدل گئی، نئی عمارتیں کھڑی ہو گئیں، لیکن گراؤنڈ زیرو کا یہ خلا آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
سابق صدور کی موجودگی اس بات کی عکاس تھی کہ یہ واقعہ امریکی تاریخ کا وہ موڑ ہے جسے کوئی حکومت یا وقت مٹا نہیں سکتا۔ یہ وہ دن تھا جس نے دنیا بھر کی سیاست، جنگوں اور انسانی زندگیوں کا رخ بدل کر رکھ دیا۔
تقریب کے اختتام تک، چاروں صدور نے خاموشی سے وہاں سے رخصت لی، اور میدان ان لوگوں کے لیے چھوڑ دیا جو پچیس برس سے اس بوجھ کو اٹھائے پھر رہے ہیں۔ شہر کی تعمیرِ نو مکمل ہو چکی ہے، لیکن اس یادگار کے پتھروں پر کندہ نام گواہی دے رہے ہیں کہ کچھ زخم وقت کے ساتھ بھرتے نہیں، صرف گہرے ہوتے ہیں۔
