لاہور — جماعت اسلامی نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں حالیہ اضافے کے خلاف اتوار کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی قیادت نے اس اقدام کو متوسط اور نچلے طبقے پر "معاشی حملہ” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عوام پر بوجھ ڈالنے کا یہ سلسلہ فوری بند کیا جائے۔
یہ احتجاجی کال حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل کے 48 گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ اضافہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے طے کردہ محصولات کے اہداف پورے کرنے کے لیے ناگزیر تھا۔ تاہم، جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ حکمران عالمی قرض دہندگان کو خوش کرنے کے لیے عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں، جبکہ اشرافیہ کو کفایت شعاری کے اقدامات سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔
یہ پیش رفت موجودہ معاشی پالیسیوں کے خلاف جماعت اسلامی کے سخت گیر مؤقف کی عکاسی کرتی ہے۔ جہاں اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے قومی اسمبلی میں صرف تنقید تک اکتفا کیا ہے، وہیں جماعت اسلامی نے عوامی غم و غصے کو سڑکوں پر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں مظاہروں کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے لیے مقامی تنظیموں کو تاجر برادری سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ماہرینِ معاشیات اس احتجاج کو عوامی بے چینی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ مہنگائی پہلے ہی ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکی ہے، اور پیٹرولیم لیوی میں اضافہ ٹرانسپورٹ اور بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔ حکومت کا اصرار ہے کہ یہ لیوی بجٹ کو متوازن رکھنے کے لیے ضروری ہے، لیکن اس فیصلے کی سیاسی قیمت چکانا حکمران اتحاد کے لیے اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی ماضی میں بھی بجلی کے بلوں اور اضافی سرچارجز کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہے، لیکن پیٹرولیم قیمتوں پر یہ احتجاج صنعتی اور گھریلو اخراجات کے براہِ راست متاثر ہونے پر مرکوز ہے۔ حکومت کی جانب سے تاحال اس احتجاجی کال پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم تجارتی مراکز میں کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
اتوار کے مظاہرے اس بات کا تعین کریں گے کہ جماعت اسلامی اپنے روایتی حلقوں سے باہر کتنی عوامی حمایت حاصل کر پاتی ہے۔ اگر شرکت توقعات سے بڑھ گئی، تو حکومت کو اپنے مالیاتی فیصلوں کی رفتار پر نظر ثانی کرنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
