لندن — ماحولیاتی کارکن مارکس شین نے منگل کے روز وزیر خارجہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دفتر نے دارالحکومت میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر بات چیت کی درخواستوں کو مسلسل نظر انداز کیا ہے۔
شین، جنہوں نے اس ماہ حکومتی عمارتوں کے باہر احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی ہے، کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزارت کے ہیڈ کوارٹر کو تین باضابطہ خطوط بھیجے، مگر ہر بار انہیں خاموشی کا سامنا کرنا پڑا۔
وزارت کے گیٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شین نے کہا، "وہ صرف مصروف نہیں ہیں، بلکہ وہ اس گفتگو سے بچ رہے ہیں کیونکہ زمینی حقائق ان کے دعووں سے مطابقت نہیں رکھتے۔”
شہر میں ایئر کوالٹی انڈیکس مسلسل چار روز سے ‘خطرناک’ سطح پر ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ صنعتی پیداوار طے شدہ حفاظتی حدود کے اندر ہے، تاہم شہر کے صنعتی علاقوں میں نصب آزادانہ سینسرز صورتحال کی سنگینی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔
شین کی ٹیم نے وزارت سے رابطے کے ثبوت بھی جاری کیے ہیں، جن میں نئی فیکٹریوں کے پرمٹ کے اثرات پر بریفنگ کی درخواست شامل تھی۔ وزارت کے ترجمان نے ان الزامات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے اسے "عوامی خط و کتابت سے متعلق اندرونی پروٹوکول” کا معاملہ قرار دیا۔
حکومتی خاموشی نے طبی ماہرین کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ریسپائریٹری اسپیشلسٹ ڈاکٹر ایلینا وینس کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے آغاز سے دمہ کے مریضوں کی ہسپتال منتقلی میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ڈاکٹر وینس نے کہا، "ہم ایمرجنسی وارڈز میں نتائج دیکھ رہے ہیں۔ وزیر کا خط کا جواب دینا یا نہ دینا، بچوں کے پھیپھڑوں میں داخل ہونے والے زہریلے ذرات کی مقدار کو تبدیل نہیں کر سکتا۔”
یہ تنازع حکومت کے معاشی اہداف اور عوامی صحت کے درمیانی خلیج کو واضح کرتا ہے۔ جمعہ کو ایک اور احتجاج کی کال دی گئی ہے، جس کے بعد حکومت کے لیے اس خاموشی کو برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
وزارت کی کمیونیکیشن ٹیم کے لیے اب یہ سوال اہم ہے کہ آیا وہ اپنی اس پالیسی پر قائم رہ پائیں گے یا انہیں عوامی دباؤ کے سامنے جھکنا پڑے گا۔ فی الحال، وزارت کے دروازے بند ہیں۔
