کھٹمنڈو — نیپال کے سیلاب زدہ علاقوں میں کئی روز سے جاری شدید بارشوں کے بعد موسم میں آنے والی اچانک خنکی نے ریسکیو ٹیموں کے لیے امید کی ایک نئی کرن پیدا کر دی ہے۔ درجہ حرارت میں کمی سے وہ دھند چھٹ گئی ہے جس نے گزشتہ 72 گھنٹوں سے ہیلی کاپٹرز کو زمین پر بٹھا رکھا تھا اور زمینی راستوں پر بھی پیش قدمی ناممکن بنا دی تھی۔
موسم کا یہ بدلاؤ محض ایک قدرتی عمل نہیں، بلکہ ان ہزاروں لوگوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے والا عنصر ہے جو ملبے کے نیچے یا کٹے ہوئے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
نیپال آرمی ایوی ایشن کے ایک پائلٹ نے بتایا، "دھند اتنی گہری تھی کہ کاک پٹ سے ہیلی کاپٹر کا پچھلا حصہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ اب ہمیں پہاڑی سلسلوں کا واضح نظارہ مل رہا ہے۔ ہم بادلوں کے دوبارہ چھانے سے پہلے اپنے تمام وسائل فضا میں اتار رہے ہیں۔”
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ کاورے پالان چوک اور للت پور کے اضلاع میں پہاڑی تودے گرنے سے پورے کے پورے دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔
متاثرہ علاقوں کے باہر کھڑے خاندانوں کے لیے یہ ٹھنڈی ہوائیں ایک عجیب کشمکش لے کر آئی ہیں۔ وہ آسمان کی طرف نظریں جمائے اس ہیلی کاپٹر کی آواز کے منتظر ہیں جو ان کے پیاروں کے زندہ بچ جانے کی خبر لا سکے۔ تاہم، پہاڑی جغرافیہ اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں صرف فضائی راستے سے ہی پہنچا جا سکتا ہے، کیونکہ زمینی راستے کیچڑ اور پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ "ہم صرف موسم سے نہیں، وقت سے بھی لڑ رہے ہیں۔ ہر گزرتا گھنٹہ کسی زندہ انسان کے ملنے کی امید کو کم کر رہا ہے۔”
حکومتی ذرائع تسلیم کرتے ہیں کہ تباہی کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ امدادی مشینری کی رفتار ناکافی محسوس ہو رہی ہے۔ پل ٹوٹنے سے دارالحکومت کا دور دراز دیہاتوں سے زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔ ریڈ کراس سمیت بین الاقوامی امدادی ادارے اب ڈرونز کے ذریعے ادویات اور پانی صاف کرنے والی گولیاں پہنچانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، کیونکہ اب انہیں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلنے کا بھی خدشہ ہے۔
جیسے جیسے سورج غروب ہو رہا ہے، بلند مقامات پر درجہ حرارت نقطہ انجماد کے قریب پہنچ رہا ہے۔ امدادی ٹیموں کے لیے یہ موسم ایک کھڑکی کی مانند ہے، مگر وہ جانتے ہیں کہ یہ کھڑکی کسی بھی لمحے بند ہو سکتی ہے۔ اب سب کی نظریں اس ریسکیو مشن پر ہیں جو وقت کے ساتھ ایک کٹھن دوڑ میں مصروف ہے۔
