نیویارک: گیٹس فاؤنڈیشن نے مصنوعی ذہانت (AI) کے فوائد کو دنیا کے پسماندہ اور کم سہولیات والے طبقات تک پہنچانے کے لیے آئندہ دو سال کے دوران ایک ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مصنوعی ذہانت عالمی سطح پر موجود معاشی اور سماجی عدم مساوات میں اضافے کا سبب بننے کے بجائے انہیں کم کرنے میں مدد دے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق اس رقم کے ذریعے صحت، تعلیم اور زراعت سمیت اہم شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ خاص طور پر ایسے علاقوں میں AI ٹیکنالوجی کی رسائی بڑھانے پر توجہ دی جائے گی جہاں ڈاکٹرز، اساتذہ اور زرعی ماہرین کی کمی ہے۔
اس منصوبے کا ایک اہم مقصد مقامی اور کم نمائندگی رکھنے والی زبانوں میں مصنوعی ذہانت کے نظام کو بہتر بنانا بھی ہے۔ اس کے لیے مقامی زبانوں میں AI ماڈلز اور زیادہ جامع ڈیٹا سیٹس تیار کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ ترقی پذیر ممالک کے عوام جدید ٹیکنالوجی سے محروم نہ رہیں۔
بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت دنیا میں موجود عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے ایک طاقتور ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اگر اس تک رسائی صرف امیر ممالک اور بڑے اداروں تک محدود رہی تو یہ پہلے سے موجود معاشی اور سماجی فرق کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
گیٹس فاؤنڈیشن مختلف ٹیکنالوجی اور تحقیقی اداروں کے ساتھ بھی تعاون کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق OpenAI، Anthropic، Google.org اور Microsoft AI for Good Lab سمیت دیگر اداروں کے ساتھ ایسے منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے جن میں AI کی مدد سے طبی تشخیص، تعلیمی سہولت اور کسانوں کے لیے زرعی معلومات فراہم کرنا شامل ہے۔
مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ کے ساتھ دنیا بھر میں اس کے معاشی اور سماجی اثرات پر بحث بھی بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر ترقی پذیر ممالک کو جدید کمپیوٹنگ، ڈیٹا، انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور تربیت یافتہ افرادی قوت تک مناسب رسائی نہ ملی تو وہ AI انقلاب میں مزید پیچھے رہ سکتے ہیں۔
بل گیٹس نے عالمی حکومتوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیزی سے اقدامات کریں۔ ان کے مطابق AI روزگار، تعلیم، سائبر سیکیورٹی اور معاشرتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔
گیٹس فاؤنڈیشن کی ایک ارب ڈالر کی یہ سرمایہ کاری اس کوشش کا حصہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد دنیا کے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچیں اور ٹیکنالوجی ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی صحت، تعلیم، زراعت اور معاشی مواقع میں بہتری کا ذریعہ بن سکے۔
