جہلم — ایک سفاک باپ نے اپنے تین معصوم بچوں کو کھانا کھلانے کے بہانے گھر سے نکالا اور اپر جہلم نہر میں پھینک کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پولیس نے کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد تینوں بچوں کی لاشیں نہر سے نکال لیں۔
متاثرہ بچوں کی عمریں چار سے آٹھ سال کے درمیان تھیں۔ ملزم، جس کی شناخت ارشد کے نام سے ہوئی ہے، بچوں کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر پہلے شہر کے ایک ہوٹل لے گیا اور کھانا کھلایا۔ اس کے بعد وہ انہیں نہر کے کنارے لے گیا جہاں اس نے انتہائی بے دردی سے انہیں پانی کے تیز بہاؤ میں دھکا دے دیا۔
واقعے کے ایک عینی شاہد نے پولیس کو بتایا کہ ملزم نے انتہائی سکون سے بچوں کو نہر میں پھینکا اور وہاں سے فرار ہو گیا۔ "اس کے چہرے پر کوئی پشیمانی نہیں تھی، وہ ایسے گیا جیسے کوئی معمولی کام کر کے جا رہا ہو،” شاہد نے بتایا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو چند گھنٹوں بعد ایک قریبی گاؤں سے گرفتار کر لیا۔ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا اپنی بیوی سے گھریلو جھگڑا چل رہا تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی بیوی کو "سبق سکھانا” چاہتا تھا اور اسی انتقام میں اس نے اپنے ہی خون کا سودا کر دیا۔
جاں بحق ہونے والے بچوں میں آٹھ سالہ عائشہ، چھ سالہ فاطمہ اور ان کا چھوٹا بھائی علی شامل ہیں۔ بچوں کی والدہ، جو خاندانی تنازع کے باعث کچھ عرصے سے اپنے والدین کے گھر رہ رہی تھیں، خبر سنتے ہی صدمے سے نڈھال ہو گئیں۔
مقتولین کے ماموں نے ہسپتال کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ارشد اس حد تک گر جائے گا۔ "اس نے نہ صرف بچوں کو مارا بلکہ ہماری پوری نسل ختم کر دی۔ ہمیں انصاف چاہیے،” انہوں نے آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ مطالبہ کیا۔
پولیس نے ملزم کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ علاقے میں اس واقعے کے بعد شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور لوگ اس درندگی پر سکتے میں ہیں۔ ملزم فی الحال پولیس کی حراست میں ہے، جبکہ لواحقین بچوں کی آخری رسومات کی تیاری کر رہے ہیں۔
