انگلینڈ کے فاسٹ بولر برائڈن کارس کو نائٹ کلب میں مبینہ حملے کے معاملے میں کسی مجرمانہ کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ڈربی شائر پولیس نے ڈربی میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ واقعہ 23 اگست 2026 کی علی الصبح ڈربی کے وارڈوک میں واقع Molly Malones نائٹ کلب میں پیش آیا تھا۔ کارس اپنے ڈرہم کے ساتھی کھلاڑیوں کے ہمراہ کاؤنٹی چیمپئن شپ کے ایک میچ کے بعد باہر گئے تھے۔ پولیس موقع پر پہنچی اور کارس کو نشے میں بدتمیزی کرنے کے شبہے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کی تفصیلات لینے اور علاقہ چھوڑنے پر رضامندی کے بعد انہیں "ڈی اریسٹ” کر دیا گیا۔
بعد میں پولیس نے اسی واقعے سے متعلق مبینہ حملے کی تحقیقات شروع کیں۔ پولیس کے مطابق مبینہ متاثرہ شخص کی شناخت اور اس سے بات چیت کے بعد تحقیقات کو مزید کارروائی کے بغیر بند کر دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد کارس کو اس مبینہ حملے کے سلسلے میں فوجداری الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
تاہم برائڈن کارس کے لیے معاملہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ کرکٹ ریگولیٹر کی جانب سے الگ تحقیقات جاری ہیں، جس میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ آیا ان کے طرز عمل نے کرکٹ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کی یا نہیں اور آیا کسی تادیبی کارروائی کی ضرورت ہے۔
اس واقعے کے باعث کارس کو پاکستان کے خلاف انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز کے دوسرے اور تیسرے میچوں کے اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا تھا۔ انہیں سری لنکا کے خلاف جاری وائٹ بال سیریز کے لیے بھی منتخب نہیں کیا گیا، حالانکہ وہ سلیکشن کے لیے دستیاب تھے۔
کارس اس واقعے کے بعد ڈرہم کی جانب سے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے رہے اور ٹیم کی کاؤنٹی چیمپئن شپ ڈویژن ٹو میں کامیابی میں بھی حصہ لیا۔ تاہم انگلینڈ کی قومی ٹیم میں ان کی واپسی کا فیصلہ کرکٹ ریگولیٹر کی کارروائی اور مستقبل کی سلیکشن سے متعلق فیصلوں پر منحصر ہوگا۔
